• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 177905

    عنوان: عصر کا آخری وقت كیا ہے؟، بیوی کے دینی معاملات کے تئیں شوہر کتنا ذمے دار ہے

    سوال: (۱) عصر کی نماز کاآخری وقت کیا ہے؟ (۲) بیوی کے تئیں دینی معاملات میں خاص طور پر پردہ، نماز ، روزہ، وغیرہ، کے بارے میں شوہر پر کتنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟اگر بیوی کمزور ہو اور نماز اور روزہ نہ رکھ سکے تو شوہر پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟یعنی کیا شوہر اس کو مجبور کرسکتاہے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے میں؟یا صرف مشورہ دے سکتاہے؟

    جواب نمبر: 17790501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:819-616/sn=9/1441

    (1) سورج کے غروب ہونے تک عصر کا وقت رہتا ہے ؛ البتہ اصفرار شمس سے پہلے پہلے تک عصر کی نماز پڑھ لینی چاہیے ، اس کے بعد مکروہ تحریمی ہے۔ ووقت العصر من صیرورة الظل مثلیہ غیر فیء الزوال إلی غروب الشمس. ہکذا فی شرح المجمع.[الہندیة 1/ 51)

    (2) نماز اسلام کا ایک اہم رکن ہے ، ہر مسلمان پر اوقات متعینہ میں نماز ادا کرنا فرض ہے ، اگر کوئی بیمار ہے یاکمزور ہے تو اس کے لئے مستقل احکام ہیں کہ کس طرح نماز پڑھنی ہے ، کمزوری کا بہانہ بنا کر نماز بالکلیہ ترک کرنا شرعا جائز نہیں ہے ، یہی حال روزے کا بھی ہے ،روزہ رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ، اگر شدید بیماری یا کمزوری ہے کہ وہ روزہ نہیں رکھ سکتا تو اس بات کی گنجائش ہے کہ روزہ نہ رکھ کر دیگر ایام میں اس کی قضا کرلے۔ شوہر کی ذمے داری ہے کہ بیوی کو فرائض کی ادئیگی کی تاکید کرے ، اسے دینی احکام سے آ گاہ کرے ، اگر گھر میں کا م زیادہ ہو تو اس سلسلے میں بیوی کا ہاتھ بٹائے ؛ تاکہ بیوی وقت فارغ کرکے نماز ادا کرسکے ، اگر عذر شرعی کے بغیر بیوی نماز وغیرہ ترک کرے تو شوہر کو اس کا بھی اختیار ہے کہ اسے ہلکی پھلکی مار مارے ، فقہائے کرام نے اس کی صراحت کی ہے ۔

    وکذا الزوج لہ أن یضرب زوجتہ علی ترک الصلاة أو الغسل فی الأصح کما أن لہ أن یضربہا علی ترک الزینة إذا أرادہا والإجابة إلی فراشہ إذا دعاہا، والخروج بغیر إذنہ، وإن لم تنتہ عن ترکہا بالضرب یطلقہا، ولو لم یکن قادرا علی مہرہا ولأن یلقی اللہ تعالی ومہرُہا فی ذمتہ خیرٌ لہ من أن یطأ امرأة لاتصلی، قال اللہ تبارک وتعالی: وأمر أہلک بالصلاة واصطبر علیہا، لا نسألک رزقا، نحن نرزقک والعاقبة للتقوی( کبیری:616،ط: رسعادت، ترکی، سہیل لاہور).نیز دیکھیں : معارف القرآن:6/165،سورہطہ، آیت:132.


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند