• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 176776

    عنوان: عشا کے بعد کی سنت وتر کے بعد پڑھنا

    سوال: عشاء کے بعد جو ۲سنت ہیں ان کو وتر کے بعد پڑھنا جائز ہے یا نہی؟ں اگر کوئی وتر کے بعد پڑھتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 17677601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:636-473/sn=7/1441

    اگر کوئی شخص عشا کی دو رکعت سنت مؤکدہ وتر کے بعد پڑھے تب بھی، سنت ادا ہوجائے گی؛ لیکن ایسا کرنا مکروہ ہوگا؛ کیونکہ جن نمازوں کے بعد سنت موکدہ ہے، اس میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ مختصر دعا کرکے سنت میں مشغول ہوجائے، حضور ﷺ کا یہی طریقہ تھا، حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرض نماز اور سنت مؤکدہ کے درمیان صرف اللہم انت السلام إلخ کی مقدار تاخیر فرماتے تھے؛ اسی لیے زیادہ تاخیر کو (خواہ کسی عبادت کے ذریعے ہی ہو جیساکہ صورت مسئولہ میں ہے ) فقہائے کرام نے مکروہ لکھا ہے۔

    ویکرہ تأخیر السنة إلا بقدر اللہم أنت السلام إلخ قال الحلوانی: لا بأس بالفصل بالأوراد واختارہ الکمال. قال الحلبی: إن أرید بالکراہة التنزیہیة ارتفع الخلاف قلت: وفی حفظی حملہ علی القلیلة؛ ...(قولہ إلا بقدر اللہم إلخ) لما رواہ مسلم والترمذی عن عائشة قالت کان رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - لا یقعد إلا بمقدار ما یقول: اللہم أنت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والإکرام ، وأما ما ورد من الأحادیث فی الأذکار عقیب الصلاة فلا دلالة فیہ علی الإتیان بہا قبل السنة، بل یحمل علی الإتیان بہا بعدہا؛ لأن السنة من لواحق الفریضة وتوابعہا ومکملاتہا فلم تکن أجنبیة عنہا، فما یفعل بعدہا یطلق علیہ أنہ عقیب الفریضة. وقول عائشة بمقدار لا یفید أنہ کان یقول ذلک بعینہ، بل کان یقعد بقدر ما یسعہ ونحوہ من القول تقریباإلخ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/447، ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند