• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 176714

    عنوان: نماز میں دھیمی آواز سے قراء ت کرنے سے نماز ہوگی یا نہیں؟

    سوال: اگر کوئی آدمی قرأت اتنی دھیمی آواز میں پڑھے کی خود کو بھی سنائی نہ دے تو کیا نمازہوجائے گی؟

    جواب نمبر: 17671401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:617-159T/sn=7/1441

    اگر حروف کی تصحیح کے ساتھ زبان سے(صرف دل سے نہیں )قراء ت کرے، تونماز ہوجائے گی، اگر چہ وہ خود نہ سن سکے؛ کیونکہ یہ بھی ایک قول ہے اور اس کی بھی تصحیح کی گئی ہے؛ لیکن بہتر اور احوط یہ ہے کہ کم از کم اتنی آواز سے قراء ت کرے کہ قاری خود سن سکے، اکثر فقہائے کرام نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔

     (و) أدنی (الجہر إسماع غیرہ و) أدنی (المخافتة إسماع نفسہ) ومن بقربہ؛ فلو سمع رجل أو رجلان فلیس بجہر....

    (قولہ وأدنی الجہر إسماع غیرہ إلخ) اعلم أنہم اختلفوا فی حد وجود القراء ة علی ثلاثة أقوال: فشرط الہندوانی والفضلی لوجودہا خروج صوت یصل إلی أذنہ، وبہ قال الشافعی. وشرط بشر المریسی وأحمد خروج الصوت من الفم وإن لم یصل إلی أذنہ، لکن بشرط کونہ مسموعا فی الجملة، حتی لو أدنی أحد صماخہ إلی فیہ یسمع.

    ولم یشترط الکرخی وأبو بکر البلخی السماع، واکتفیا بتصحیح الحروف. واختار شیخ الإسلام وقاضی خان وصاحب المحیط والحلوانی قول الہندوانی، وکذا فی معراج الدرایة. ونقل فی المجتبی عن الہندوانی أنہ لا یجزیہ ما لم تسمع أذناہ ومن بقربہ، وہذا لا یخالف ما مر عن الہندوانی لأن ما کان مسموعا لہ یکون مسموعا لمن فی قربہ کما فی الحلیة والبحر. ثم إنہ اختار فی الفتح أن قول الہندوانی وبشر متحدان بناء علی أن الظاہر سماعہ بعد وجود الصوت إذا لم یکن مانع. وذکر فی البحر تبعا للحلیة أنہ خلاف الظاہر، بل الأقوال ثلاثة. وأید العلامة خیر الدین الرملی فی فتاواہ کلام الفتح بما لا مزید علیہ، فارجع إلیہ. وذکر أن کلا من قولی الہندوانی والکرخی مصححان، وأن ما قالہ الہندوانی أصح وأرجح لاعتماد أکثر علمائنا علیہ.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 252، فصل فی القراة،باب صفة الصلاة، ط: زکریا،دیوبند۔ نیز دیکھیں: (امداد الفتاوی 1/206، سوال: 218، ط: کراچی)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند