• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 176555

    عنوان: جیل كی ڈیوٹی كے دوران قاتل اور جرایم پیشہ شخص کے پیچھے نماز پڑھنا

    سوال: میرا نام محمد اسد خان ہے اور صوبہ خیبر پختون خواں پاکستان سے میرا تعلق ہے ، میں جیل میں گورنمنٹ جاب {نوکری }کرتا ہو دوران ڈیوٹی ہماری نماز کا با جماعت کوئی اہتمام نہیں ہوتا ، اس کے ساتھ ساتھ جو لوگ ہمارے ساتھ حوالاتی اور عدالت سے سزا یافتہ ہیں وہ قید ہیں۔ وہ لوگ ظہر ، عصر اور جمعہ کے نماز باہر(جیل کی احاطے میں) ہمارے دوران ڈیوٹی پڑھتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کی امامت میں ہماری نماز جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ ان میں زیادہ لوگ سنگیں جرائم میں ملوث ہیں۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 17655501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 554-450/D=07/1441

    امام، صالح و دین دار شخص کو ہی بنانا چاہئے، اگر کوئی ایسا شخص میسر نہیں ہے تو حاضرین میں، دینداری، مسائل جاننے اور قرآن پڑھنے کے اعتبار سے جو شخص دوسروں سے غنیمت ہو اس کو امامت کے لئے آگے بڑھانا چاہئے، پھر بھی اگر کوئی دوسرا بڑھ جاتا ہے تو آپ اس کی وجہ سے جماعت ترک نہ کریں، اسی کے پیچھے نماز پڑھ لیں، بشرطیکہ وہ شخص اتنا قرآن پڑھ لیتا ہو کہ نماز درست ہو جائے۔ آپ کو جماعت کی فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ اگر کوئی شخص محض الزام کی وجہ سے جیل میں ہے، تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی مضایقہ نہیں، اور اگر واقعی مجرم ہے، لیکن وہ توبہ کر لیتا ہے تو عند اللہ اس کی توبہ مقبول ہے۔ توبہ کے بغیر وہ شخص فاسق ہے، فاسق کے پیچھے بھی جماعت کی فضیلت مل جاتی ہے۔ في الدر: صلی خلف فاسق أو مبتدع ، نال فضل الجماعة۔ وفي الرد: أفاد أن الصلاة خلفہما أولی من الانفراد ۔ (۲/۳۰۱، زکریا) وفیہ قبلہ : فإن أمکن الصلاة خلف غیرہم فہو أفضل ، وإلا فالاقتداء أولی من الانفراد ۔ (۲/۲۹۸)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند