• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 176487

    عنوان: منہ ڈھک کر نماز پڑھنا

    سوال: امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے ۔ اللہ آپ سب حضرات کے علم و عمل میں ترقی عطا فرمائے۔ منہ ڈھک کر نماز پڑھنے کے حوالے سے آپ نے فتوی نمبر 175692 کے ذیل میں درج ذیل جواب عنائیت فرمایا، کم فہمی کی وجہ سے میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ " مستورات کے لئے اس سلسلے میں کیا حکم ہے؟ Fatwa : 492-371/B=05/1441 بسم اللہ الرحمن الرحیم چادر اس طرح اوڑھ کر نماز پڑھنا کہ منہ اورناک چھپ جائے اسی طرح ماسک لگا کر نماز پڑھنا جس میں منہ اور ناک چھپ جاتے ہیں، مکروہ ہے۔ یکرہ اشتمال الصّماء والاعتجار، والتلثم ۔ قال الشامی: قولہ: والتلثم وہو تغطیة الأنف والفم فی الصّلاة ؛ لأنّہ یشبہ فعل المجوس حال عبادتہم النیران ۔ (الدر مع الرد، کتاب الصلاة، باب مایفسد الصّلاة وما یکرہ فیہا، ۴۲۳/۲، زکریا دیوبند) واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء،

    جواب نمبر: 17648701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 575-455/B=07/1441

    سابقہ فتوے میں مردوں کے لئے جو حکم لکھا گیا ہے وہی حکم مستورات کے لئے بھی ہے۔ عورتوں کے لئے نماز میں چہرہ کھلا رکھنے نیز دونوں ہتھیلی، اور دونوں قدم کھلا رکھنے کی اجازت ہے یہ کراہت مجوسیوں کی مشابہت کی وجہ سے ہے وہ لوگ اپنی عبادت کرتے وقت منہ اور ناک ڈھانک لیتے ہیں ان کی مشابہت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند