• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 176273

    عنوان: ڈاڑھی كٹانے والے كا امامت كرنا ؟

    سوال: کیافرماتے ہیں علماء کرام دریں مسئلہ کہ ایک آدمی امامت کراتا ہے نمازپنجگانہ نمازعیدین وجمعہ یانمازجنازہ کی لیکن وہ داڑھی کٹواتاہے یادوسرے لوگ اسکوامام بناتے ہیں آیااس کاامامت کرانادرست یا نہیں؟ اگردرست نہیں ہے تو صورت مسئولہ کی دوسری صورت میں اس کاوبال کس ہوگا؟ بینواتوجروا

    جواب نمبر: 17627301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 462-392/D=06/1441

    ڈاڑھی کٹانے والے شخص کو امام بنانا، اور اس کی اقتداء کرنا مکروہ تحریمی ہے؛ البتہ اگر اتفاق سے کسی وقت سب لوگ ریش تراشیدہ ہوں، تو قرآن اچھا پڑھنے ، مسائل سے واقفیت رکھنے اور دین داری میں جو دوسروں سے بہتر ہو، مجبوری میں اس کی امامت جائز ہے۔ اہل تر شخص کی موجودگی میں ریش تراشیدہ کو امام بنایا تو بنانے والے گناہ گار ہوں گے۔ اور اگر ریش تراشیدہ شخص خود آگے بڑھ جائے جب کہ دوسرے اہل تر لوگ موجود ہوں تو گناہ اس پر ہوگا۔ في رد المحتار: بل مشی في شرح المنیة علی أن کراہة تقدیمہ کراہة تحریم لما ذکرنا۔ (۲/۲۹۹، باب الإمامة ، ط: زکریا) وفیہ قبلہ: فإن أمکن الصلاة خلف غیرہم فہو أفضل وإلا فالاقتداء أولی من الانفراد ۔ (۲/۲۹۸)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند