• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 176272

    عنوان: ظہر کی نماز میں قعدہ اخیرہ کے بعد پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہو گیا تو كیا حكم ہے؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے ذیل میں میں ظہر کی چار رکعت میں قعدہ اخیرہ کے بعد کوئی سیدھا خراب ہو جائے تو کیا کرنی چاہیے کسی عالم نے کہا بیٹھ کر سجدء سہو کرنی چاہیے نماز ہوجائے گی نمبر دو اگر کسی نے پانچویں رکعت سجدہ کر لے تو کیا چھ رکعت پوری کرنی چاہیے اور سجدہ سہو بھی کرنی چاہیے کیا نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ خلاصہ تحریر فرمائیں ۔

    جواب نمبر: 17627201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:459-307/sd=6/1441

    اگر ظہر کی نماز میں قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بقدر بیٹھنے کے بعد پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہو گیا تو اس کا فرض ادا ہوگیا؛ لیکن اسے چاہئے کہ فوراً قعدہ کی طرف لوٹ آئے اور اخیر میں سجدہٴ سہو کرلے، سجدہ سہو ضروری ہے اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا، تب بھی فرض اداء ہوگیا، لیکن اس صورت میں چھٹی رکعت بھی ساتھ ملالینا چاہیے تاکہ اخیر کی دو رکعتیں نفل ہوجائیں؛ لیکن سجدہٴ سہو کرنا اس صورت میں بھی ضروری ہے ۔

    وإن قعد فی الرابعة مثلاً قدر التشہد ثم قام عاد وسلم الخ(الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۵۵۳، باب سجود السھو، زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند