• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 15960

    عنوان:

    میں دعا مانگتے وقت آنکھوں کو بند کرلیتاہوں، کیا ایسا کرنے میں کچھ حرج ہے یا ایسے دعا مانگ سکتے ہیں؟ (۲)نماز کے بعد دعا مانگنے کے وقت میں بنا امام صاحب کی دعاؤں پر دھیان دئے خود ہی من ہی من میں درود پڑھنے لگتاہوں او رخود ہی اپنے لیے دعا مانگتا ہوں۔ایسا کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ امام صاحب کی آواز تھوڑی دھیری ہوتی ہے جسے سننا اور سمجھنا کبھی کبھی مشکل ہوتا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میرے درود پڑھنے تک ہی امام صاحب کی دعا ختم ہو جاتی ہے، شاید وہ کوئی چھوٹا والا درود پڑھتے ہیں۔ کیا میرا ایسا کرنا جائز ہے کہ امام صاحب سے دھیان ہٹا کر میں خود ہی اپنے لیے دعا مانگوں؟ (۳)درود شریف کتنے ہیں؟ کیوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ بہت جلد ہی درودپڑھ لیتے ہیں۔ میں وہ درود پڑھتاہوں جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کی ترقی کے طرز پر درود ہے۔ برائے مہربانی اگر میں نے کچھ غلط لکھا ہے تو اسے درست کردیجئے؟

    سوال:

    میں دعا مانگتے وقت آنکھوں کو بند کرلیتاہوں، کیا ایسا کرنے میں کچھ حرج ہے یا ایسے دعا مانگ سکتے ہیں؟ (۲)نماز کے بعد دعا مانگنے کے وقت میں بنا امام صاحب کی دعاؤں پر دھیان دئے خود ہی من ہی من میں درود پڑھنے لگتاہوں او رخود ہی اپنے لیے دعا مانگتا ہوں۔ایسا کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ امام صاحب کی آواز تھوڑی دھیری ہوتی ہے جسے سننا اور سمجھنا کبھی کبھی مشکل ہوتا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میرے درود پڑھنے تک ہی امام صاحب کی دعا ختم ہو جاتی ہے، شاید وہ کوئی چھوٹا والا درود پڑھتے ہیں۔ کیا میرا ایسا کرنا جائز ہے کہ امام صاحب سے دھیان ہٹا کر میں خود ہی اپنے لیے دعا مانگوں؟ (۳)درود شریف کتنے ہیں؟ کیوں کہ میں نے دیکھا ہے کہ کچھ لوگ بہت جلد ہی درودپڑھ لیتے ہیں۔ میں وہ درود پڑھتاہوں جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کی ترقی کے طرز پر درود ہے۔ برائے مہربانی اگر میں نے کچھ غلط لکھا ہے تو اسے درست کردیجئے؟

    جواب نمبر: 1596031-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1468=1181/1430/ل

     

     دعا مانگتے وقت آنکھوں کو بند کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (۲) دعا میں آدمی امام کا تابع نہیں ہے، اس لیے آپ امام صاحب سے دھیان ہٹاکر خود ہی اپنے لیے دعا مانگ سکتے ہیں۔ (۳) درود شریف بے شمار ہیں، البتہ ان میں سب سے بہتر درود ابراہیمی ہے، جیسے نمازوں میں پڑھا جاتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند