• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 15707

    عنوان:

    ہم لوگ آسٹریا میں رہتے ہیں جہاں گرمیوں میں عشاء کی نماز کا وقت سوا بارہ بجے تک چلا جاتاہے جب کہ فجر کا وقت سوا دو بجے پر۔ لوگ کہتے ہیں کہ مغرب کی نماز کے دیڑھ گھنٹہ بعدعشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے اس لیے وہ لوگ عشاء گیارہ بجے پڑھ لیتے ہیں۔ جب کہ انٹرنیٹ وغیرہ کے مطابق نماز عشاء کا وقت سوا بارہ بجے ہوتا ہے۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ایسا کرنا درست ہے؟

    سوال:

    ہم لوگ آسٹریا میں رہتے ہیں جہاں گرمیوں میں عشاء کی نماز کا وقت سوا بارہ بجے تک چلا جاتاہے جب کہ فجر کا وقت سوا دو بجے پر۔ لوگ کہتے ہیں کہ مغرب کی نماز کے دیڑھ گھنٹہ بعدعشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے اس لیے وہ لوگ عشاء گیارہ بجے پڑھ لیتے ہیں۔ جب کہ انٹرنیٹ وغیرہ کے مطابق نماز عشاء کا وقت سوا بارہ بجے ہوتا ہے۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا ایسا کرنا درست ہے؟

    جواب نمبر: 1570701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1630=1346/1430/د

     

    غروب کے ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد اگر شفق غروب ہوجاتا ہے تو عشاء کی نماز پڑھ سکتے ہیں، جائز ہے۔

    نوٹ: غروب شمس کے بعد آسمان پر جو سرخی ہوتی ہے اس کے غائب ہونے کے بعد عشاء کا وقت ایک قول پر شروع ہوجاتا ہے، اور سرخی کے بعد سفیدی آکر غائب ہوجائے تو بالاتفاق عشاء کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا سفیدی بھی غائب ہوجائے تب عشاء کی نماز پڑھی جائے، یہی قول راجح اور مفتی بہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند