• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 148717

    عنوان: نماز کی صفیں درست کرانے كے كیا معنی ہیں اور یہ ذمہ داری کس کی ہے؟

    سوال: عاجز کے ذہن میں یہ بات ہمیشہ تازہ رہتی ہے کہ نماز کی صف کے درمیان میں فاصلہ رکھنا دلوں میں پھٹن اور نا اتفاقیوں کا سبب ہے اور شیطان اسی جگہ صف میں شامل ہو کر وسوسے پیدا کرتا ہے ، اس لیے میں حتی الامکان کوشش کرتا ہوں کہ صف سیدھی رہے اور فاصلہ بھی نہ رہے لیکن اس معاملے مصلیان سے بڑی ہی بے احتیاطی کا مظاہرہ ہوتا ہے بلکہ کچھ کے بارے میں یہ کہنا بھی بالکل درست ہوگا کہ وہ فاصلہ رکھنے ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اکثر مواقعوں پر قریب ہونے کا اشارہ کرنے پر لوگ برہم بھی ہو جاتے ہیں۔ایک مرتبہ :امامِ مسجد کی غیر موجودگی میں مجھے امامت کے لیے آگے کیا گیا تو میں نے ایک صاحب کو فاصلہ کم کرنے کے لیے کہا، وہ ہٹے نہیں بلکہ ذرا سا بازو کی طرف جھک گئے ، میں نے کہا، آپ ذرا سا ہٹ کر اس فاصلے کو کم کرلیجیے ، اس پر وہ صاحب اتنے ناراض ہوے کہ نماز ادا کیے بغیر ہی فوراً مسجد سے نکل گئے ۔ الغرض :ایسی ہی باتیں اور واقعات اکثر مساجد میں دیکھنے اور سننے میں آتی رہتی ہیں، جو میرے لیے مستقل اضطراب کا باعث ہے ،اس لیے میں ایک مہم چاہتا ہوں کہ ہر مسجد میں پہنچ کر مقتدیوں کو امامِ مسجد کی موجودگی میں صف کے درست کرنے کی طرف متوجہ کرتا رہوں تاکہ ہم اسکے نقصانات سے بچ جائیں۔لہٰذا، درخواست ہے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں ایک جواب عنایت فرمائیں جس میں مندرجہ ذیل باتیں ہوں۔ ۱)صف کے درست کرنے سے کیا مراد ہے ؟ ۲) صف کا درست کرنا کیا ہے ؟ (فرض، سنت، مستحب، یا کچھ اور )، ۳)صف کے درست نا ہونے کے کیا نقصانات ہیں؟ ۴)اس کی ذمہ داری کس کی ہے ؟(امام یا مقتدی کی )

    جواب نمبر: 14871701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 598-574/SN=5/1438

    صفوں کو درست کرنے سے مراد یہ ہے کہ مقتدی حضرات اس طرح نماز میں کھڑے ہوں کہ سب کے قدم برابر ہوں یعنی ایسا نہ ہو کہ کوئی آگے کھڑا ہو کوئی پیچھے، اور اتصال ہو یعنی اس طرح کھڑے ہوں کہ دو شخصوں کے درمیان جگہ خالی نہ رہے اور پہلی صف مکمل ہونے پر دوسری صف شروع کی جائے، تسویة الصفوف کے باب میں جو روایتیں وارد ہوئی ہیں ، ان کے مجموعے سے یہی مذکورہ بالا طریقہ ثابت ہوتا ہے۔

    (۲) سنت موٴکدہ ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تسویة الصفوف پر بڑی تاکید فرمائی ہے۔ مسلم شریف میں ہے: سوّوا صفوفکم؛ فإن تسویة الصف من تمام الصلاة (مسلم، رقم: ۴۳۳) اگر دوران نماز صفیں درست نہ کی جائیں تو نماز کے ثواب میں کمی آجاتی ہے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ نماز میں تسویة الصفوف کا اہتمام نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی مخالفت پیدا ہوجاتی ہے۔

    (۴) یہ تو تمام مقتدیوں کی ذمے داری ہے کہ وہ نماز شروع کرتے وقت صفوں کو درست کرلیں؛ باقی امام صاحب کو بھی چاہئے کہ صفیں سیدھی کرانے کا اہتمام کریں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام بالخصوص خلفائے راشدین جب امامت فرماتے تو مقتدیوں کی صفوں کو درست کرانے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند