• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 4375

    عنوان:

    ہمارے یہاں کچھ لوگوں نے مل کر قربانی کا پروگرام بنایا کہ ہم لوگوں کی قربانی کروائیں گے، لہذا لوگوں کو کہاگیا کہ آپ کے لیے جانور خریدنے سے لے کر ذبح کرنے اور گوشت تیار کرنے تک کا کام ہم کریں گے۔ پس لوگوں نے خوب بکنگ کروادی۔ اب تقریباً دو سو بکرا بک ہوا۔ عید والے دن سارا بکرا ذبح ہوا، پھر ایک ایک کرکے گوشت بنایا گیا۔ اگر کسی کا گوشت کم ہوا تو دوسرے بکرے کا کاٹ کرکے ملا دیا گیا، اور بعد میں تھیلے میں بھر کرکے اس میں بکنگ والے کا نام لکھ دیا گیا۔ اب یہ قربانیاں ٹھیک ہیں یا نہیں؟یاد رہے کہ ذبح کرتے وقت کسی قربانی کی نامزدگی نہیں کی کہ یہ بکرا (قربانی) فلاں کی طرف سے ہے یا فلاں کی طرف سے۔

    سوال:

    ہمارے یہاں کچھ لوگوں نے مل کر قربانی کا پروگرام بنایا کہ ہم لوگوں کی قربانی کروائیں گے، لہذا لوگوں کو کہاگیا کہ آپ کے لیے جانور خریدنے سے لے کر ذبح کرنے اور گوشت تیار کرنے تک کا کام ہم کریں گے۔ پس لوگوں نے خوب بکنگ کروادی۔ اب تقریباً دو سو بکرا بک ہوا۔ عید والے دن سارا بکرا ذبح ہوا، پھر ایک ایک کرکے گوشت بنایا گیا۔ اگر کسی کا گوشت کم ہوا تو دوسرے بکرے کا کاٹ کرکے ملا دیا گیا، اور بعد میں تھیلے میں بھر کرکے اس میں بکنگ والے کا نام لکھ دیا گیا۔ اب یہ قربانیاں ٹھیک ہیں یا نہیں؟یاد رہے کہ ذبح کرتے وقت کسی قربانی کی نامزدگی نہیں کی کہ یہ بکرا (قربانی) فلاں کی طرف سے ہے یا فلاں کی طرف سے۔

    جواب نمبر: 437501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1145=1090/ د

     

    بہتر تو یہ ہے کہ جانور خریدنے کے بعد ایک ایک جانور کو ایک ایک آدمی کے لیے متعین کردیا جائے، متعین نہ کرنے کی صورت میں بھی قربانی درست ہے، اور جن لوگوں کے لیے جانور خریدا گیا ہے، ان کی طرف سے قربانی درست ہوگئی، اشتری سبعة نفر سبعة شیاة بینھم ولم یسم لکل واحد منھم شاة بعینھا فضحوا بھا کذلک فالقیاس أن لا یجوز وفي الاستحسان یجوز (فتاوی ہندیة ج۵ ص۳۰۶)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند