• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 178127

    عنوان: قربانی كی نیت سے پالا گیا جانور تبدیل كرنا؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص نے جانور اس نیت سے پال رکھا ہے کہ اس کی قربانی کرے گا بعد میں اس نے پہلے والے سے اچھا جانور خرید لیا اور کہہ رہا کہ اب اس کی قربانی کروں گا تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟

    جواب نمبر: 17812701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1008-743/H=08/1441

    قربانی کرنے کی نیت سے جانور پال لیا تو اس جانور کی قربانی اِس نیت کی وجہ سے واجب نہ ہوئی۔ ولو ملک انسان شاة فنوی ان یضحی بہا او اشتری ولم ینو الاضحیة وقت الشراء ثم نوی بعد ذالک ان یضحی لا یجب علیہ سواء کان غنیاً او فقیرا اھ (الفتاوی الہندیة: ۵/۲۹۱، فی الباب الاول من کتاب الاضحیة) جب پالے ہوئے جانور میں قربانی کی نیت سے اس جانور کی قربانی واجب نہ ہوئی تو اس جانور کو بدل کر اس سے اچھے جانور کی قربانی کرنا بلاکراہت درست ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند