• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 175665

    عنوان: مالک کی اجازت کے بغیر لی ہوئی بکری کے بچوں سے جو قربانی کی گئی ہے اس کا حکم

    سوال: ایک شخص نے تقریبا 20 سال پہلے کسی نامعلوم شخص کی مالکی کی ایک بکری جو ویسے ہی گھوم رہی تھی اسے پکڑ لیا اور اس کو پال کر اسے نسل پیدا کی اور دودھ وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا رہا۔ اس کے پیدا ہونے والے بچّوں میں دو تین مرتبہ قربانی بھی کی۔ اب اسے اپنی اس غلطی پر پیشمانی ہوئی ہے تو اس کی توبہ کی کیا صورت ہوگی؟ نیز کی ہوئی قربانی کا کیا حکم ہوگا؟

    جواب نمبر: 17566501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:426-131/Tsn=6/1441

    صورت مسئولہ میں شخص مذکور کے لیے اس بکری کے دودھ سے فائدہ اٹھانا ، اسی طرح اس کے بچوں سے قربانی کرنا جائز نہ تھا ، اب اس کی تلافی کی شکل یہ ہے کہ اگر بکری کے اصل مالک،اگر اس کا انتقال ہوچکا ہو تو اس کے ورثا کا پتہ چل جائے تو بکری اور بچوں کی قیمت کسی بہانے سے انھیں واپس کردی جاے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو ان کی قیمت کا تخمینہ لگا کر غریبوں پر صدقہ کرے، صدقہ کردینے سے امید ہے کہ قربانی کے سلسلے میں بھی ان کا ذمہ فارغ ہوجائے گا۔

     مستفاد : ولوأن رجلا أخذ شاة لرجل بغیر إذنہ فذبحہا وطبخہا أو شواہا کان لصاحبہا أن یضمنہ القیمة فإن کان صاحبہا غائبا أوحاضرا لایرضی أن یضمنہ لم یسع للذی ذبحہا وشواہا أن یأکلہا ولا یطعم منہا أحدا ولا یسع أحدا أن یأخذہا منہ حتی یضمن الذی صنع بہا ذلک قیمتہا لصاحبہا فإن ضمنہ صاحبہا قیمتہا بقضاء قاض أو بغیر قضاء قاض وسعہ أن یأکل منہا وأن یطعم من أحب إذا أدی القیمة أو کانت دینا علیہ.(الفتاوی الہندیة 5/ 140، الباب الثامن فی تملک الغاصب المغصوب، ط: مکتبة زکریا، دیوبند)......(غیّب)...(ما غصب وضمن قیمتہ) لمالکہ (ملکہ) عندنا ملکا(مستندا إلی وقت الغصب) فتسلم لہ الأکساب لا الأولاد ملتقی .(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 6/ 202)

    ....(قولہ فتسلم لہ الأکساب لا الأولاد)تفریع علی قولہ مستندا ؛ لأن الملک الثابت بالاستناد ناقص یثبت من وجہ دون وجہ فلم یظہر أثرہ فی الزیادة المنفصلة کذا فی العنایة وغایة البیان. (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین : 9/ 293)

     (وزوائد المغصوب) مطلقا متصلة کسمن وحسن أو منفصلة کدر وثمر (أمانة لا تضمن إلا بالتعدی أو المنع بعد طلب المالک) ؛ لأنہا أمانة ولوطلب المتصلة لا یضمن....(قولہ؛ لأنہا أمانة) مکرر مع ما فی المتن...أقول: ذکر فی المجمع أن الزیادة المتصلة لا تضمن بالبیع والتسلیم . قال شارحہ أی عند أبی حنیفة. أما المنفصلة فمضمونة اتفاقا؛ لأنہ بالتسلیم إلی المشتری صار متعدیا اہ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین : 9/ 299، ط:زکریا)

    ....لوأخرج زکاة المال الحلال من مال حرام ذکر فی الوہبانیة أنہ یجزء عند البعض، ونقل القولین فی القنیة.وقال فی البزازیة: ولو نوی فی المال الخبیث الذی وجبت صدقتہ أن یقع عن الزکاة وقع عنہا اہ أی نوی فی الذی وجب التصدق بہ لجہل أربابہ، وفیہ تقیید لقول الظہیریة: رجل دفع إلی فقیر من المال الحرام شیئا یرجو بہ الثواب یکفر، ولو علم الفقیر بذلک فدعا لہ وأمن المعطی کفرا جمیعا.(الدرالمختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 3/ 219، ط: مطلب فی التصدق من المال الحرام،ط: زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند