• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 173813

    عنوان: كیا قربانی میں نصاب کا سال بھر ہونا شرط ہے؟

    سوال: قربانی جیسا کہ معلوم ہے کہ صاحب نصاب پرواجب ہے اور زکوة بھی صاحب نصاب پر واجب ہے اور ہمیں یہ بات بھی معلوم ہے کہ معیار نصاب سونا اور چاندی ہے لیکن دونوں کی قیمت میں حد درجہ تفاوت ہے یعنی فی زماننا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت 32ہزارکے قریب ہے اور ساڑھے سات تولہ سونے کی قیمت ساڑھے تین لاکھ یا پونے چار لاکھ ہے اس بیّن تفاوت کے تناظر میں آپ بتائیں کہ قربانی کا نصاب کس جیسے صاحب نصاب پر ہوگا اور زکوة کا وجوب کس جیسے صاحب نصاب پر؟

    جواب نمبر: 17381301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 173-136/B=02/1441

    فقہاء کرام نے غریبوں اور محتاجوں کے فائدے کے پیش نظر نصاب کا معیار چاندی سے مقرر فرمایا ہے یعنی جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر مال ہو اور سال بھر رہا ہو تو اس کے ذمہ ۴۰/ واں حصہ زکاة کا نکالنا واجب ہے۔ اسی کے اوپر قربانی بھی واجب ہے۔ قربانی میں نصاب کا سال بھر ہونا شرط نہیں۔ ایام قربانی میں اتنا مال آجائے جب بھی قربانی واجب ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند