• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 172990

    عنوان: قربانی میں كئی لوگ شریك ہیں تو ان كا نام دعا میں كس طرح لیا جائے؟

    سوال: قربانی کی دعا کیا ہے اور اگر سات لوگوں کی قربانی ہے تو ان کا نام دعا میں کیسے لیں گے؟

    جواب نمبر: 17299001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1080-938/sn=1/1441

    قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اوّلا یہ دعا پڑھے: إنی وجہت وجہی للذی فطرالسموات والأرض علی ملة إبراہیم حنیفا وما أنا من المشرکین إن صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک أمرت وأنا من المسلمین․ اس کے بعد بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر جانور ذبح کرے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا کرنا ثابت ہے۔ (مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 3/ 1082، ط: بیروت) اور بعد ذبح یہ دعا پڑھے اللہم تقبل منی کما تقبلت من حبیبک محمد وخلیلک إبراہیم علیہم السلام۔ (دیکھیں: فتاوی محمودیہ 17: 487، ط: ڈابھیل)

    اگر ذابح کی طرف سے قربانی نہ ہو؛ بلکہ کسی اور کی طرف سے ہو تو ”من“ کے بعد جس کی طرف سے قربانی کی جارہی کے اس کا نام لے، ، اگر ذابح کے ساتھ دیگر لوگ بھی شریک ہوں تو اس طرح کہے ”منی ومن فلان وفلان“ إلخ

    واضح رہے کہ بہ وقت ذبح بسم للہ پڑھنا تو ضروری ہے؛ لیکن دعائیں پڑھنا یا مضحی کا نام لینا شرعا ضروری نہیں ہے، محض دل کی نیت و ارادہ کافی ہے؛ باقی اگر دعا پڑھ لے اور ناموں کا بھی ذکر کردے تو اچھا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند