• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 172667

    عنوان: ایک گائے یا بھینس میں ایک ہی آدمی کا واجب اور نفل یا سنت قربانی کی نیت کرنا؟

    سوال: حضرت مفتی صاحب کیا ایک ہی آدمی ایک گائے میں واجب اورسنت یا نفل قربانی کی نیت کرسکتا ہے ؟بعض اردو فتاوی نے "ولو ضحی بالکل فالکل فرض. الظاھر ان المرادلو ضحی ببدنہ یکون الوجب کلھا لاسبعھابدلیل قولہ فی الخانیہ ولو ان رجلا ضحی ببدنہ عن نفسہ خاصہ کان الکل اضحیہ واجبہ عند عامہ العلماء وعلیہ الفتوی (شامی:9/482) نے دلیل میں ذکر فرمایا ہے اور بعض نے ولو ارادو القربہ الاضحیہا او غیرھا من القرباجزأھم سوائکانت القربہ واجبہ او تطوعا......الفتاوی الھندیہالباب الثامن فیما یتعلق بالشرکہ فی الضحایا:5/ 304 دلیل میں ذکر فرمایا ہے آپ اس بارے میں راہنمائی فرما کر بند کی الجھن کو دور فرمائیں فضل الرحمان پشاور پاکستان

    جواب نمبر: 17266701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1097-124T/sd=1/1441

    اگر ایک شخص ایک بڑے جانور( گائے، بھینس وغیرہ ) میں متعدد نیت کرتا ہے، مثلا: ایک حصہ واجب قربانی کی طرف سے، دوسرا حصہ نفلی قربانی کے لیے، تو اس طرح نیت کرنا درست ہے اور قربانی درست ہوجائے گی، اس مسئلے میں صریح جزئیہ اگرچہ نہیں مل سکا؛ لیکن بظاہر اس کے عدم جواز کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی، اس لیے کہ اگر بڑے جانور میں دوسرا شخص نفل کی نیت سے شریک ہو، تو اس کی قربانی درست ہو جاتی ہے ، جیساکہ فقہ میں صراحة موجود ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ ایک بڑے جانور میں متعدد نیت کی جاسکتی ہے خواہ نیت کرنے والا ایک شخص ہو یاکئی ہوں بشرطیکہ نیت تقرب کی کی جائے اور شامی کی جو عبارت ، یعنی :الظاہر أن المراد لو ضحی ببدنة الخ ۔ سوال میں ذکر کی گئی ہے، اس کا تعلق دوسری بحث سے معلوم ہوتا ہے، یعنی : اگر کوئی شخص بڑا جانور قربانی کرتا ہے، تو واجب قربانی پور ے جانور کی مانی جائے گی یا جانور کا ساتواں حصہ واجب قربانی کی طرف سے مانا جائے گا اور باقی حصے نفلی مانیں جائیں گے، یہ ایک مستقل بحث ہے، جس کے بارے میں علامہ شامی نے اکثر فقہاء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ پورا جانور واجب قربانی کی طرف سے ہوگا، اس لیے کہ اراقہ ایک ہی پایا گیا؛ لیکن اگر کوئی شخص ایک جانور میں متعدد قربت کی نیت کرلیتا ہے، تو کیا متعدد نیت کا اعتبار ہوگا یا نہیں ؟ اس کامذکورہ جزئیہ سے تعلق نہیں ہے، اس کا حکم دوسرے جزئیہ سے معلوم ہوتا ہے، جو سوال میں مذکور ہے ۔ ولو أرادوا القربة - الأضحیة أو غیرہا من القرب - أجزأہم سواء کانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب علی البعض دون البعض، وسواء اتفقت جہات القربة أو اختلفت(الفتاوی الہندیة : ۳۰۴/۵) وشمل ما لو کانت القربة واجبة علی الکل أو البعض اتفقت جہاتہا أو لا۔ ( رد المحتار : ۳۲۶/۶، ط: دار الفکر، بیروت) باقی مزید تفصیلات اور دلائل کے لیے فتاوی محمودیہ :جلد: ۱۷، صفحہ: ۴۱۵تا ۴۱۸ملاحظہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند