• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 172434

    عنوان: ریٹ كم ہونے كی وجہ سے قربانی كی كھال كو دفنانا كیسا ہے؟

    سوال: عرض خدمت عالیہ میں یہ ہے کہ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی اقتصادی حالت کمزور کرنے کی مذموم کوششیں جاری ہیں ان میں سے ایک کوشش کا تعلق حلال جانوروں کی کھالوں سے ہے جس سے مدارس کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے بکرے کی کھال تقریباً 4=5سال پہلے ڈھاء ی تین سو روپے کی اور بھینس تقریباً دو ہزار سے ہزار بارہ سو روپے کی فروخت ہوتی تھی اب دام کم ہوتے ہوتے بکرے کی کھال بیس تیس روپے کی اور بھینس کی کھال ڈھاء ی تین سو روپے کی فروخت ہوتی ہے جبکہ ہر جرم پر اتنا ہی صرفہ ہوجاتا ہے اور طلباء و اساتذہ کی محنت برآں اس لیے مدارس والے اس مشورہ میں لگے ہیں کہ چرم جمع کرکے چرم زمین میں دفن کر دی جاء یں تاکہ جب بازار میں چرم نہیں پہنچے گی تو ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے اور یہی مشورہ قصابوں کو بھی دیا جائے کہ عام دنوں کی کھالوں کو دفن کر دیں اس سلسلے میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طرح مال کو ضائع کرنا کیسا ہے؟ جواب مرحمت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 17243401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1218-1017/D=12/1440

    یہ کوئی جواز و عدم جواز کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق مسلمانوں کی مصلحت عامہ سے ہے، اس کاروبار سے مربوط مسلمانوں کو مل کر کوئی مناسب حل تجویز کرنا چاہئے، پھر بھی کھالیں دفن کرنے کا طریقہ بظاہر نہ کوئی عمدہ حل ہے اور نہ ہی اس کا عمومی حکم کرنا مناسب ہے۔ اور اس میں تضییع مال بھی ہے۔

    --------------------------

    جواب درست ہے؛ البتہ کھال کی قیمت مناسب ملے اس کی کوشش کی جائے یا کھال کودباغت دے کر اپنے کسی کام میں لایا جائے۔ (ل)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند