• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 172223

    عنوان: كیا نذر پوری ہوتے ہی عقیقہ كرنا ضروری ہے یا كچھ تاخیر سے بھی كیا جاسكتا ہے؟

    سوال: ایک عورت کے یہاں دو لڑکے ہوئے اور اُن کا انتقال ہوگیا جب تیسرا لڑکا ہوا تو اس نے یہ کہا جب یہ پانچ سال کا ہو جائے گا تو میں اس کا عقیقہ کروں گی اب دریافت یہ کرنا ہے کہ وہ پورے پانچ ہی میں عقیقہ کرے یا کچھ عرصہ اور ٹھیر کے کرے؟

    جواب نمبر: 17222301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1172-1145/B=01/1441

    اگر آپ نے نذر کی نیت کی ہے اور آپ کی مراد یہ ہے کہ بچہ اگر پانچ سال زندہ رہا تو میں عقیقہ کروں گی، تو نذر منعقد ہوگئی، اور پانچ سال پورا ہونے پر عقیقہ کرنا ضروری ہے۔ ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وکان من جنسہ واجب وہو عبادة مقصودة و وجد الشرط لزم الناذر لحدیث ”من نذر وسمّی فعلیہ الوفاء بما سمّی (الدر المختار ، کتاب الأیمان ، ۵/۵۱۵، ۵۱۶، زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند