• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 172072

    عنوان: چوتھے دن كی قربانی كا حكم ؟

    سوال: قربانی کا دن تو تین دن ہے حنفیہ کے نز دیک لیکن میں دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ چا ر دن قربانی کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی کرواتے ہیں قرآن حدیث کی روشنی میں جواب مطلوب ہے۔

    جواب نمبر: 17207201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1158-992/D=11/1440

    احناف کے نزدیک قربانی کے تین ہی دن ہیں، یہی جمہور کا مسلک ہے، چوتھے دن حنفی کی قربانی درست نہ ہوگی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے یوم النحر (۱۰/ ذی الحجہ) کے بعد قربانی دو دن ہے۔ لہٰذا جو لوگ تین  دن کے بعد قربانی کرتے یا کرواتے ہیں ان کا عمل جمہور سے الگ اور حدیث مذکور کے خلاف ہے۔

    فی الدرایة في تخریج أحادیث الہدایة: لکن في الموطا عن نافع عن ابن عمر أنہ کان یقول: الأضحی یومان بعد یوم النحر ۔ (الہدایة: ۲/۴۳۰، ط: الاتحاد)

    فی الہدایة: وہي جائزة في ثلاثة أیام ، یوم النحر ویومان بعدہ ۔ (۲/۴۳۰) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند