• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 171905

    عنوان: پانچ سال پورا ہونے پر عقیقہ كی نیت كرنا نذر ہے؟

    سوال: ایک عورت نے یہ کہا کہ میرے بچے کی عمر جب پانچ سال پورے ہو جائیگی تو میں اسکا عقیقہ کروں گی کیا اس طرح کہنے سے نذر ہوگئی اور اس کو پانچ سال پورے ہونے پر عقیقہ کرنا پڑے گا یا کچھ عرصہ بعد کرے؟

    جواب نمبر: 17190501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1053-935/M=11/1440

    جی نہیں، صرف اس طرح کہنے سے نذر نہیں ہوئی۔ لہٰذا پانچ سال پورے ہونے پر عقیقہ کرنا لازم نہیں، عقیقہ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن کرنا اولیٰ ہے، اگر ساتویں دن نہ کرسکے تو چودہویں دن کردے اور چودہویں دن بھی نہ کرسکے تو اکیسویں دن کردے، اس کے بعد استحبابی وقت ختم ہو جاتا ہے ہاں وقت مباح پوری زندگی ہے جب چاہے کرے؛ البتہ ساتویں دن کا خیال کرلینا اچھا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند