• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 154555

    عنوان: عقیقے كا طریقہ كیا ہے؟

    سوال: لڑکے کا عقیقہ دو ناموں سے کیا جاتا ہے ، مثلا اگر بکرا سے کرتے ہیں تو دو بکرا سے کر یں گے ، کیوں کہ بکرا میں ایک نام ہوتا ہے اور اگر بڑے جانور سے کریں اس میں تو سات نام ہوتے ہیں تو کیا لڑکے کا عقیقہ کرنے کے لیے دو بڑے جانور چاہئے یا دو نام کافی ہے ؟عقیقہ کا طریقہ بتائیں اور کیا عقیقہ فرض ہے ؟

    جواب نمبر: 15455501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1377-1346/sd=1/1439

    مفتی بہ قول کے مطابق احناف کے نزدیک عقیقہ مستحب ہے ۔ ( العرف الشذی ، باب ماجاء فی العقیقة، اعلاء السنن: ۱۱۴/۱۷، فتاوی دار العلوم : ۶۰۵/۱۵ ) بہتر یہ ہے کہ عقیقہ ولادت کے ساتویں دن کیا جائے ، اگر کسی وجہ سے ساتویں دن عقیقہ نہیں کیا، تو جب بھی کریں، ساتویں دن کا لحاظ رکھنا بہتر ہے ، مثلا : اگر بچہ جمعہ کو پیدا ہوا ہے ، تو عقیقہ جمعرات میں کریں اور لڑکے کے عقیقے میں مستحب یہ ہے کہ دو بکرے ذبح کیے جائیں اور اگر بڑے جانور میں حصہ لینا ہو، تو بہتر یہ ہے کہ دو حصے لیے جائیں، اگر ایک بکرا ذبح کیا یا بڑے جانور میں ایک حصہ لیا، تب بھی عقیقہ ہوجائے گا ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند