• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 154318

    عنوان: بقرعید میں جانور کی قربانی کرنا فرض ہے؟

    سوال: (۱) بقرعید میں جانور کی قربانی کرنا فرض ہے؟ (۲) اگر کسی ساموہک پریوار میں سبھی لوگ صاحب نصاب ہیں یعنی زکات دیتے ہیں، تو کیا سبھی کو الگ الگ قربانی کرنی ہوگی؟

    جواب نمبر: 15431801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

     

    Fatwa ID: 1226-1013/D=12/1438

    (۱) جو شخص بقرعید کے دن صاحب نصاب ہو اس پر قربانی کرنا واجب ہے قربانی کے لیے صاحب نصاب وہ شخص کہلاتا ہے جس کے پاس ۸۷/ گرام ۴۸۰/ ملی گرام سونا یا ۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام چاندی یا اس کی قیمت کے برابر نقد روپئے یا تجارت کا مال یا روز مرہ کی ضروریات سے فاضل (زاید) گھر کا اثاثہ موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔ اگر کوئی ایک چیز ۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام چاندی کی قیمت کے برابر تو موجود نہیں ہے مگر تھوڑا سونا تھوڑا چاندی، کچھ نقد وغیرہ موجود ہے جن کی قیمت ۶۱۲/ گرام ۳۶۰/ ملی گرام چاندی کے برابر ہو جاتی ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔

    (۲) جی ہاں ہر صاحب نصاب کو اپنی طرف سے الگ الگ قربانی کرنی ہوگی چاہے بکرا کرے چاہے بڑے جانور کے سات حصوں میں سے ایک حصہ لے لے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند