• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 154012

    عنوان: مشترکہ قربانی درست ہے یا نہیں؟

    سوال: سوال: ہم گھر والے جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں۔ اگر میں، میرے والد صاحب اور بھائی پیسے ملا کر ایک گائے لے آئیں مثلا ۳۰۰۰۰ ہزار میں نے ملائے ، ۳۰۰۰۰ میرے والد صاحب نے اور ۵۰۰۰ میرے بھائی نے ۔ اس طرح ہم ایک جانور لی لیں اور اس میں جس کے نام سے بھی قربانی کرنی ہے ، کرلیں۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 15401201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1232-1020/D=1/1439

    کسی شریک کی رقم بھینس کی مجموعی قیمت اور چارہ بنوائی وغیرہ کے اخراجات کے ساتویں حصہ سے کم نہیں ہونا چاہیے ورنہ اس کی قربانی جائز نہ ہوگی مثلاً سوال مذکور میں پینسٹھ ہزار (65000/-) کی بھینس ہے پانچ ہزار بقیہ دنوں کے چارہ پانی اور جانور کی کٹائی وغیرہ کا خرچ مان لیا جائے تو ستر ہزار ہوگئے اب کسی حصہ دار کی رقم دس ہزار سے کم نہیں ہونی چاہیے ورنہ اس کی قربانی درست نہ ہوگی۔

    نوٹ: ہاں اگر آپ اور والد اپنی رقم میں سے اتنی رقم کا بھائی کو مالک بنادیں جس سے وہ 1/7 (ساتویں حصہ) کا مالک ہوجائے تو اس کی قربانی بھی درست ہوجائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند