• عبادات >> ذبیحہ وقربانی

    سوال نمبر: 153367

    عنوان: عقیقہ کیا ہے؟ اور کیوں کیا جاتا ہے، اس کا فائدہ کیا ہے؟

    سوال: (۱) عقیقہ کیا ہے؟ کیوں کرتے ہیں؟ (۲) عقیقہ کیسے کیا جاتا ہے؟ (۳) عقیقہ کب سے کب تک کر سکتے ہیں؟ سب سے اچھا وقت کرنے کا کب ہوتا ہے ؟ (۴) ختنہ کتنے دنوں میں کر لینے کا حدیث میں ذکر آیا ہے؟ (۵) عقیقہ میں کون کون سے جانور استعمال میں لاسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 15336701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 1227-1186/sn=11/1438

    (۱،۲،۳،۵) کسی کو جب اللہ تعالیٰ بچے سے نوازے تو ولادت کے ساتویں روز یا چودہویں یا اکیسویں دن، اگر ان دونوں میں نہ ہوسکے تو عمر بھر جب بھی موقع میسر آئے (ساتویں دن کی رعایت کے سات) بچہ کی طرف سے اللہ کے نام جانور ذبح کرنے کا نام شریعت میں ”عقیقہ“ ہے، عقیقہ سنت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ فرمایا تھا، ایک حدیث میں ہے کہ ”عقیقہ“ کی برکت سے بچہ کے اوپر سے بلائیں ٹلتی ہیں، اگر لڑکا پیدا ہو تو دو بکرے (یا بڑے جانور میں دو حصے) اور لڑکی پیدا ہو تو ایک بکرا (یا بڑے جانوروں میں ایک حصہ) ذبح کرنا مستحب ہے۔ ”عقیقہ“ کا کوئی خاص طریقہ نہیں ہے جس طرح بہ طور قربانی جانور ذبح کیا جاتا ہے اسی طرح عقیقہ میں بھی ذبح کیا جائے گا، عقیقہ میں بھی انھیں جانور کو ذبح کرنا درست ہے جنھیں قربانی میں ذبح کرنا درست ہے، یعنی اونٹ، گائے، بھینس، بکری، بھیڑ اور دنبہ، عقیقے کا سب سے اچھا وقت پیدائش سے ساتویں دن ہے، پھر چودہویں پھر اکیسویں، اگر ان دونوں میں بھی نہ کرسکے تو عمر بھر میں کسی بھی دن عقیقہ کیا جاسکتا ہے؛ البتہ بہتر ہے جب بھی عقیقہ کیا جائے پیدائش سے ساتویں دن کا لحاظ کیا جائے ”عن ابن عباس أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقّ عن الحسن والحسین کبشًا کبشًا” (ابوداود، رقم: ۲۸۴۱) ثم إن الترمذي أجاز بہا إلی یوم أحدے وعشرین، قلت بل یجوز إلی أن یموت لما رأیت في بعض الروایات أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم عقّ عن نفسہ بنفسہ (فیض الباري: ۴/ ۳۳۷، کتاب العقیقة، ط: اشرفی)

    نوٹ: عقیقہ کے ساتھ یہ بھی مسنون ہے کہ اس دن بچے کا کوئی مناسب اسلامی نام رکھا جائے ، نیز اس کے سر کا بال صاف کیا جائے اور اس بال کے وزن کے برابر سونا چاندی صدقہ کیا جائے۔

    (۴) ختنہ کے لیے کسی عمر کی تحدید شریعت میں نہیں کی گئی، بس جب بچہ اس کا متحمل ہوجائے ختنہ کردینی چاہیے، ”ووقتہ غیر معلوم وقبل سبع سنین کذا في الملتقی وقیل عشر وقیل أقصاہ اثنتا عشرة سنة وقیل العبرة بطاقتہ وہو الأشبہ” (درمختار مع الشامي، مسائل شتی)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند