• معاملات >> حدود و قصاص

    سوال نمبر: 1149

    عنوان:

    قبلہ میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کے اعتبار سے توہین اسلام اور گستاخ رسول کی کیا سزا ہونی چاہیے؟

    سوال:

    قبلہ میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کے اعتبار سے توہین اسلام اور گستاخ رسول کی کیا سزا ہونی چاہیے؟

    قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیں گے۔

    جواب نمبر: 114901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 283/د = 292/د)

     

    اسلام کی توہین کرنے والا اپنے ایمان و اسلام کو خطرہ میں ڈالتا ہے اور مستحق عذابِ نار ہوتا ہے۔ جب اسلام کے ایک چھوٹے سے عمل کا استخفاف کرنا (ہلکا اور معمولی سمجھنا) کفر کا باعث ہوتا ہے تو توہین تو بہت سخت ترین جرم ہے۔ اسی طرح شانِ رسالت میں جب ادنیٰ سى بے ادبی کو حبط اعمال کا سبب قرار دیا گیا ہے تو گستاخی شدید ترین جرم ہے۔ اس کے بعد ایمان سلامت رہنا بھی دشوار ہے۔ قال في الشامي لو لم یر السنة حقا کفر لأنہ استخفاف و وجھہ أن السنة أحد الأحکام الشرعیة المتفق علی مشروعیتھا عند علماء الدین فإذا أنکر ذلک ولم یرھا شیئا ثابتا ومعتبرًا في الدین یکون قد استخف بھا واستھانھا وذلک کفر: ج۱ ص۳۵۰۔ وقال في سابّ الأنبیاء: والکافر یسب نبي من الأنبیاء فإنہ یقتل حدا ولا تقبل توبتہ مطلقا ج6 ص370، زکریا) گستاخ رسول کی سزا فقہاء نے لکھی ہے کہ اس کو بطور حد کے قتل کردیا جائے گا اور توبہ کرنے پر بھی یہ سزا اس سے معاف نہیں ہوگی۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس طرح کی سزاوٴں کا جاری کرنا حکومت کا کام ہے، ہرکس و ناکس اس طرح کی سزا جاری کرنے کا مجاز نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند