• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 177479

    عنوان: دعا سكھانے كے لیے ’عبدالباری کارٹون‘ دیكھنا؟

    سوال: عرض یہ ہے کہ آج کل یوٹیوب پر ایک سیریز چل رہی ہیں( عبدالباری کارٹون )کے نام سے۔ جس میں ایک بچہ عبدالباری ہے جو بہت ذہین اور دیندار ہے اور دعائیں سیکھتا ہے جس کے ذریعہ سے بچوں کو مختلف دعائیں سکھایں جاتے ہیں۔جس میں بچوں کو کارٹون کی شکل میں ایک دوسرے کو دعا کی ترغیب اور فضیلت بیان کرتے ہیں۔تو چھوٹے بچے ان کو شوق کے ساتھ دیکھتے ہیں اور یاد بھی کرتے ہیں۔ کیا اس نیت سے بچوں کو عبدالباری کارٹون دکھانا جائز ہے کہ نہیں ؟

    جواب نمبر: 17747901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:744-603/L=8/1441

    بچوں کو دعا وغیرہ سکھانے کا جذبہ بہت اچھا اور قابل ستائش جذبہ ہے ، ہر مسلمان کو ایسا جذبہ ہونا چاہیے ؛ البتہ بچوں کو دعا وغیرہ سکھانے کی غرض سے کارٹون دکھاناصحیح نہیں؛ کیونکہ کارٹون میں جاندار کی تصویر ہوا کرتی ہے ،اورجاندار کی تصویر دار ویڈیو بنانا جائز نہیں، اسی طرح اس کی طرف دیکھنا بھی کراہت سے خالی نہیں ۔

    عن عبد اللہ، قال: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”إن أشد الناس عذابا عند اللہ یوم القیامة المصورون“ رواہ البخاری (5950) وفي المنہاج للنووي: قال أصحابنا وغیرہم من العلماء تصویر صورة الحیوان حرام شدی التحریم وہو من الکبائر لأنہ متوعد علیہ بہذا الوعید الشدید المکذور في الأحادیث وسواء صنعہ بما یمتہن أو بغیرہ فصنعتہ حرام بکل حال لأن فیہ مضاہاة لخلق اللہ تعالی وسواء ما کان في ثوب أو بساط أو درہم أو دینار أو فلس أو إناء أو حائط أو غیرہا․ (المنہاج شرح الصحیح لمسلم بن الحجاج: 14/81)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند