• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 402

    عنوان:

    ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہاں نہ کوئی اسلامی شریعت ہے نہ بیت المال کا نظام۔ آج کے دور میں اگر اکسیڈنٹ میں گھر کا کوئی کمانے والا فرد مرجائے تو اس کے بیوی بچوں کو بیت المال سے کوئی وظیفہ یا کوئی مالی امدادنہیں ملتی۔ ایسی صورت میں اگر کوئی بیمہ یا میڈیکل انشورنس کراتا ہے تب بھی یہ جائز نہیں؟ بے شک ہمارا ایمان بہت کمزور ہے ، کیا اس صورت میں ہم میڈیکل بیمہ کرواسکتے ہیں؟

    سوال:

    ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہاں نہ کوئی اسلامی شریعت ہے نہ بیت المال کا نظام۔ آج کے دور میں اگر اکسیڈنٹ میں گھر کا کوئی کمانے والا فرد مرجائے تو اس کے بیوی بچوں کو بیت المال سے کوئی وظیفہ یا کوئی مالی امدادنہیں ملتی۔ ایسی صورت میں اگر کوئی بیمہ یا میڈیکل انشورنس کراتا ہے تب بھی یہ جائز نہیں؟ بے شک ہمارا ایمان بہت کمزور ہے ، کیا اس صورت میں ہم میڈیکل بیمہ کرواسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 40201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 498/ج=498/ج)

     

    جیون بیمہ میں سود اور قمار (جوا) دونوں پائے جاتے ہیں جو شریعت میں حرام قطعی قرار دیئے گئے ہیں، اس لیے جائز نہیں۔ اور آپ کے یہاں میڈیکل انشورنس کی صورت کیا ہے؟ آپ نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے آپ اس کی مفصل وضاحت کریں، اس کے بعد ہی آپ کے اس سوال کا جواب دیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند