• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 1660

    عنوان:

    لائف انشورنس پالیسی حرام ہے یا نہیں؟ شیئرز میں پیسہ لگانا حرام ہے یا نہیں؟

    سوال:

    (۱) لائف انشورنس پالیسی حرام ہے یا نہیں؟

    (۲) شیئرز میں پیسہ لگانا حرام ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 166001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  229/ل = 229/ل)

     

    (۱) لائف انشورنس (جس میں مرنے پر کمپنی جمع کردہ روپئے سے کئی گنا کرکے رقم دیتی ہے) اس میں دو بنیادی باتیں پائی جاتی ہیں:

    ۱- قمار (جوا) لأنہ تعلیق الملک علی الخطر والمال من الجانبین.

    ۲- سود لأنہ فضل خال عن العوض اور دونوں بنص قطعی حرام ہیں؛ اس لیے اس کمپنی کا ممبر بننا ناجائز وحرام ہے۔

    (۲) اگر شیئرز کی خرید و فروخت میں چار شرطیں پائی جاتی ہیں تو پھر اس میں پیسہ لگانا جائز ہوگا ورنہ نہیں۔

    ۱- وہ کمپنی حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو مثلاً وہ سودی بینک نہ ہو، سود اور قمار پر مبنی انشورنس کمپنی نہ ہو، شراب کا کاروبار کرنے والی کمپنی نہ ہووغیرہ وغیرہ۔

    ۲- اس کمپنی کے تمام اثاثے اوراملاک نقد رقم کی شکل میں نہ ہوں بلکہ اس کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے ہوں مثلاً اس نے بلڈنگ بنالی ہو یا زمین خریدلی ہو اور واقعةً کمپنی قائم کرکے اس نے کاروبار شروع کردیا ہو اور یہ امر تحقیق سے معلوم کرلیا ہو۔

    ۳- اگر اس کمپنی کا کسی قم کے سودی کاروبار میں ملوث ہونا ممبر بننے کے بعد معلوم ہو تو اس کی سالانہ میٹنگ میں اس معاملہ کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔

    ۴- جب منافع تقسیم ہوں تو اس وقت نفع کا جتنا حصہ سودی معاملہ سے حاصل ہوا ہو اس کو بلا نیت ثواب فقراء پر صدقہ کردے۔ اگر مذکورہ بالا شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی گئی تو پھر اس شیئرز میں پیسہ لگانا ناجائز ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند