• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 1037

    عنوان:

    میں ایک پرائیویٹ سوفٹ ویر بنانے والی کمپنی میں ملازم ہوں۔ اب تک ہمیں طبی اخراجات کے لیے زیادہ سے زیادہ 30000/-سالانہ روپئے ملتے تھے۔ مزید وضاحت کے لیے ایک مثال دے رہا ہوں۔ ۲۰۰۶ء میں میرے علاج کا کل صرفہ 20000/-ہوا، اسی لیے میں نے ۲۰۰۶ء میں تیس ہزار میں سے صرف بیس ہزار کی رقم ہی لی۔ لیکن اگر میرا خرچ تیس ہزارسے متجاوز ہوجائے توبھی کمپنی صرف تیس ہزار ہی دے گی اور مزید رقم مجھے خود ادا کرنی ہوگی۔

    سوال:

    میں ایک پرائیویٹ سوفٹ ویر بنانے والی کمپنی میں ملازم ہوں۔ اب تک ہمیں طبی اخراجات کے لیے زیادہ سے زیادہ 30000/-سالانہ روپئے ملتے تھے۔ مزید وضاحت کے لیے ایک مثال دے رہا ہوں۔ ۲۰۰۶ء میں میرے علاج کا کل صرفہ 20000/-ہوا، اسی لیے میں نے ۲۰۰۶ء میں تیس ہزار میں سے صرف بیس ہزار کی رقم ہی لی۔ لیکن اگر میرا خرچ تیس ہزارسے متجاوز ہوجائے توبھی کمپنی صرف تیس ہزار ہی دے گی اور مزید رقم مجھے خود ادا کرنی ہوگی۔

    اب اس سال کمپنی نے ایک انشورنس پالیسی کا نفاذ کیا ہے۔ وہ پاکستان کی ایک بڑی میڈیکل انشورنس فراہم کرنے والی کمپنی سے خدمات حاصل کررہے ہیں۔ اس میں یہ اختیار بھی ہے کہ ملازم اپنے بیوی بچوں اور والدین کے لیے ان خدمات سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ اگر ملازم اپنی فیملی کے لیے ان خدمات کو حاصل کرنا چاہے تو کمپنی اس کی ادائیگی کرے گی۔ از راہ کرم، بتائیں کہ کیا اسلامی نقطہٴ نظر سے یہ جائز ہے؟کیا میں اپنی فیملی کے لیے ان خدمات کو حاصل کرسکتا ہوں یا نہیں؟

    جواب نمبر: 103701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 827/ب = 780/ب)

     

    امسال کمپنی نے جس انشورنس پالیسی کا نفاذ کیا ہے اس کے طریقہٴ کار کی تفصیل لکھئے۔ ملازم اپنی فیملی کے لیے کس طرح خدمات حاصل کرے گا؟ جب تک طریقہٴ کار وضاحت کے ساتھ معلوم نہ ہو، کوئی شرعی حکم لکھنا مشکل ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند