• عبادات >> قسم و نذر

    سوال نمبر: 6428

    عنوان:

    جب میرا نکاح ہوا تو میں نے نذر مانی تھی کہ میں ساری زندگی ہر نماز کے ساتھ دو نفل شکرانہ کی ادا کروں گی، کیوں کہ جہاں میں چاہتی تھی وہی میری شادی ہوئی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی نذر ماننا صحیح ہے یا نہیں؟ اور کیا ہر نماز کے ساتھ مجھے نفل ادا کرنی پڑے گی، جب کہ عصر اور فجر کی نماز کے ساتھ نفل نمازپڑھنا منع ہے۔ اور کیا میں رات کی نماز کے ساتھ پورے دن کی نفل جو شکرانہ کی مانی ہے پڑھ سکتی ہوں یا ہر نماز کے ساتھ پڑھنی ہوگی؟ برائے مہربانی ضرور تفصیل سے جواب دیجئے گا۔ دعا میں یاد رکھیے گا۔

    سوال:

    جب میرا نکاح ہوا تو میں نے نذر مانی تھی کہ میں ساری زندگی ہر نماز کے ساتھ دو نفل شکرانہ کی ادا کروں گی، کیوں کہ جہاں میں چاہتی تھی وہی میری شادی ہوئی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی نذر ماننا صحیح ہے یا نہیں؟ اور کیا ہر نماز کے ساتھ مجھے نفل ادا کرنی پڑے گی، جب کہ عصر اور فجر کی نماز کے ساتھ نفل نمازپڑھنا منع ہے۔ اور کیا میں رات کی نماز کے ساتھ پورے دن کی نفل جو شکرانہ کی مانی ہے پڑھ سکتی ہوں یا ہر نماز کے ساتھ پڑھنی ہوگی؟ برائے مہربانی ضرور تفصیل سے جواب دیجئے گا۔ دعا میں یاد رکھیے گا۔

    جواب نمبر: 642801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 855=803/ ل

     

    جی ہاں! ایسی نذر ماننا صحیح ہے اور آپ پرہرنماز کے ساتھ دو رکعت نفل کی ادا کرنی ضروری ہے، البتہ آ پ عصر کے وقت نفل عصر کے فرض نماز سے پہلے ادا کریں اور فجر کی نفل کسی اور وقت میں ادا کریں، فجر کے وقت میں ادا نہ کریں؛ کیونکہ طلوع صبح صادق سے طلوعِ آفتاب تک اور عصر کی نماز کے بعد نفل ادا کرنا مکروہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند