• عبادات >> قسم و نذر

    سوال نمبر: 5774

    عنوان:

    میرے ایک دوست کی ماں نے یہ منت مانی کہ جب میرا لڑکا نوکری پاجائے گا تو میں اور میرا لڑکا اس کی تنخواہ سے عمرہ کرنے جائیں گے۔ اب حال یہ ہے کہ الحمد للہ اس کو نوکری مل گئی ہے، لیکن پھر بھی اس کے پاس عمرہ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے زیادہ پیسہ نہیں ہے۔ وہ کیا کرے؟ یا تو وہ تین یا چار مہینہ کی تنخواہ جمع کرے اس کے بعد یہ ممکن ہے یا وہ اپنے والد کے پیسہ سے عمرہ کرے؟ اور اگر میرا دوست اپنے بجائے اپنے والدین کو عمرہ پر بھیجنا چاہے تو کیا یہ درست ہے؟

    سوال:

    میرے ایک دوست کی ماں نے یہ منت مانی کہ جب میرا لڑکا نوکری پاجائے گا تو میں اور میرا لڑکا اس کی تنخواہ سے عمرہ کرنے جائیں گے۔ اب حال یہ ہے کہ الحمد للہ اس کو نوکری مل گئی ہے، لیکن پھر بھی اس کے پاس عمرہ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے زیادہ پیسہ نہیں ہے۔ وہ کیا کرے؟ یا تو وہ تین یا چار مہینہ کی تنخواہ جمع کرے اس کے بعد یہ ممکن ہے یا وہ اپنے والد کے پیسہ سے عمرہ کرے؟ اور اگر میرا دوست اپنے بجائے اپنے والدین کو عمرہ پر بھیجنا چاہے تو کیا یہ درست ہے؟

    جواب نمبر: 577401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 516=552/ ل

     

    مذکورہ بالا طریقے پر نذر ماننے سے نذر منعقد نہیں ہوئی اس لیے صورت مسئولہ میں نذر کا انعقاد نہیں ہوا: و أن لا یکون مالتزمہ اکثر مما یملکہ أو ملکاً لغیرہ (الدر المختار مع الشامی:۵/۵۱۹)۔ البتہ اگر آپ کے دوست اپنے والدین کو یا وہ خود اپنی والدہ کے ساتھ عمرہ پر جاتے ہیں تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ حدیث شریف میں حج و عمرہ کے بڑے فضائل مذکور ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند