• عبادات >> قسم و نذر

    سوال نمبر: 1984

    عنوان: میں نے ایک مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ میں آئندہ کوئی گناہ نہیں کروں گا، مگر گناہ ہوجاتا ہے ، تو کیا میرے لیے قسم توڑنے پر تین روزہ رکھنا ضروری ہے؟اگر میں ہر قسم ٹوٹنے پر تین روزہ رکھوں تو میری پوری زندگی ختم ہوجائے گی مگر روزہ پھر بھی رہ جائے گا۔میں کیا کروں؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔

    سوال: میں نے ایک مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہا تھا کہ میں آئندہ کوئی گناہ نہیں کروں گا، مگر گناہ ہوجاتا ہے ، تو کیا میرے لیے قسم توڑنے پر تین روزہ رکھنا ضروری ہے؟اگر میں ہر قسم ٹوٹنے پر تین روزہ رکھوں تو میری پوری زندگی ختم ہوجائے گی مگر روزہ پھر بھی رہ جائے گا۔میں کیا کروں؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 198401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1515/ ھ= 1185/ ھ

     

    قسم کے الفاظ کا تکلم کرنے کے بعد جب پہلا گناہ ہوا تو آپ حانث ہوگئے اور قسم کا کفارہ واجب ہوگیا، دوسری مرتبہ گناہ کرنا تو جائز نہ تھا مگر ہوگیا تو دوسرا کفارہ واجب نہیں۔ حاصل یہ کہ آپ کے ذمہ صورتِ مسئولہ میں ایک کفارہ واجب ہے اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس غرباء مساکین مستحقینِ زکوٰة کو دو وقت کھانا کھلادیں یا دس میں سے ہرایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا بنادیں، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو لگاتار (مسلسل) تین روزے بعد رمضان المبارک رکھ لیں تو کفارہ ادا ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند