• معاشرت >> نکاح

    سوال نمبر: 4041

    عنوان:

    زید اپنی لڑکی کی شادی اپنے بھتیجہ سے کرانا چاہتاہے، لیکن لڑکی اس سے شادی کرنا نہیں چاہتی ہے، وہ فیملی سے باہر شادی کرنا چاہتی ہے، کیا وہ اپنے بھائیوں کو ولی بناسکتی ہے؟

    سوال:

    زید اپنی لڑکی کی شادی اپنے بھتیجہ سے کرانا چاہتاہے، لیکن لڑکی اس سے شادی کرنا نہیں چاہتی ہے، وہ فیملی سے باہر شادی کرنا چاہتی ہے، کیا وہ اپنے بھائیوں کو ولی بناسکتی ہے؟

    جواب نمبر: 404101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 142/ م= 142/ م

     

    اگر زید کی لڑکی بالغہ ہے تو باپ (زید) اس کو اپنے بھتیجے سے نکاح کے لیے مجبور نہیں کرسکتا، بالغہ اپنا نکاح اپنی رضامندی سے جہاں چاہے کرسکتی ہے، اور اپنے بھائی وغیرہ کو نکاح کا وکیل بناسکتی ہے، البتہ باپ کی رضامندی کے بغیر غیرکفوٴ میں بالغہ اپنا نکاح کرے تو باپ کو اس نکاح پر اعتراض کا حق حاصل ہوتا ہے، صورت مسئولہ میں اگر باپ (زید) میں سوء خیار وغیرہ کی کوئی شکایت نہیں اور لڑکی کے لیے کوئی شرعی عذر مانع نہیں تو اپنے باپ کے بھتیجے سے نکاح کے لیے رضامند ہوجانا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند