• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 54427

    عنوان: یہاں پر اکثر جمعہ کے خطبے میں امام خاص دعا کرتے ہیں مثلاً کسی اسلامی ملک کی، یا بارش کی،اور اس حالت میں خطیب اور سامع دونوں ہاتھ اٹھا کر آمین کہتے ہیں

    سوال: آپ کا جمعہ سے پہلے کی چار رکعات والے مسئلے کے جواب ملا، تسلی بخش تھا، جزاک اللہ ۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پر اکثر جمعہ کے خطبے میں امام خاص دعا کرتے ہیں مثلاً کسی اسلامی ملک کی، یا بارش کی،اور اس حالت میں خطیب اور سامع دونوں ہاتھ اٹھا کر آمین کہتے ہیں تو کیا یہ ہاتھ اٹھا نا صحیح ہے؟ یا صرف آمین ہی کہنا چاہئے ؟ براہ کرم، حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 5442701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1145-906/D=10/1435-U ہاتھ اٹھانا یا آمین آواز سے کہنا منع ہے، دل دل میں کہہ لیں، گنجائش ہے، کیونکہ خطبہ کا سننا واجب ہے وفي الخلاصة کل ما حرم في الصلاة حرم حال الخطبة ولو أمرا بمعروف (طحطاوی علی المراقي) وإذا مر الخطیب الصلاة علی النبي صلی علیہ سرا إحرازا للفضیلتین (منہ) قال في حاشیة الطحطاوي وفي الشرح عن الحسامیي یصلي في نفسہ (ص۵۱۶) فتاوی رحیمیہ میں ہے اس وقت ہاتھ اٹھانا یا آمین کہنا ممنوع ہے، وما یفعلہ الموٴذنون حال الخطبة من الصلاة علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم والترضي عن الصحابة والدعاء للسلطان بالنصر ینبغي أن یکون مکروہا نقلاً (حاشیہ طحطاوي) (فتاوی رحیمیہ: ج۳ ص۳۸۷ مکتبہ احسان دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند