• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 52031

    عنوان: تنخواہ میں کمی ہونے کی وجہ سے اپنے شہر میں ملازمت نہ کرکے جمعہ چھوڑ نے پر میں گناہ گار ہوں گا؟

    سوال: میں عراق میں ایک تیل اور گیس کمپنی میں کام کررہا ہوں جہاں پر کوئی مسجد اور آبادی نہیں ہے، میں ۳۵ دن کام کرتاہوں اور۳۵ دن پاکستان ، گھر میں رہتاہوں، جب میں کام پر ہوتاہوں تو میری پانچ جمعہ کی نماز چھوٹ جاتی ہے اور بدلے میں ظہر پڑھتاہوں، جمعہ نہ پڑھنے پر مجھے بہت افسوس ہوتاہے تو کیا مجھے گناہ ہوگا جمعہ نہ پڑھنے پر کیوں کہ وہاں جامع مسجد کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ ایک اور سوال ہے کہ یہاں مجھے بہت اچھی تنخواہ مل رہی ہے اور اپنے شہر میں مجھے ایک ملازمت مل رہی ہے مگر تنخواہ کم ہے ، لیکن یہاں جمعہ پڑھ سکتاہوں تو کیا تنخواہ میں کمی ہونے کی وجہ سے اپنے شہر میں ملازمت نہ کرکے جمعہ چھوڑ نے پر میں گناہ گار ہوں گا؟براہ کرم، میری رہنمائی فرمائیں ، میں اس بارے میں فکر مند ہوں۔ آپ کے جواب کی ضرورت ہے تاکہ میں فیصلہ لے سکتاہوں۔

    جواب نمبر: 5203101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 634-630/N=5/14325-U (۱، ۲) آپ عراق میں جس کمپنی میں ملازم ہیں، اگر وہاں کوئی آبادی نہیں ہے، نیز وہ آس پاس کے کسی شہر یا قصبہ کی آبادی کی شرعی حدود میں بھی نہیں آتی ہے تو کمپنی میں رہنے والوں پر جمعہ کی نماز واجب ہی نہیں، وہاں جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز ادا کی جائے گی، مراقی الفلاح (مع حاشیہ الطحطاوی ص۵۰۴ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) میں ہے: ولا یجب علی من کان خارجہ، ولو سمع النداء من المصر سواء کان سوادہ قریبا من المصر أو بعیدا علی الأصح؛ فلا یعمل بما قیل بخلافہ وإن صحح اھ لہٰذا ایسی صورت میں آپ پریشان نہ ہوں اور اچھی تنخواہ والی ملازمت ترک نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند