• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 47816

    عنوان: خرید وفروخت کی ممانعت جمعہ کی اذانِ اول ہی کے بعد سے ہے

    سوال: جمعہ کی پہلی اذان کے بعد لین دین اور کارو بار کرنے کی بڑی سختی سے ممانعت ہے ، مہربانی فرما کر قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے بتائیں کہ پہلی اذان ہے یا دوسری اذان؟اگر پہلی اذان ہے تو اس کے لیے کیا دلائل ہیں؟ میں نے کسی کو قائل کرنا ہے کہ یہ پہلی اذان ہے دوسر ی نہیں ہے۔

    جواب نمبر: 4781601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1317-1317/M=11/1434-U خرید وفروخت کی ممانعت جمعہ کی اذانِ اول ہی کے بعد سے ہے، قرآن میں ہے کہ ”یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلَاةِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوْا الْبَیْعَ“ (الجمعة: ۹) وفي البحر: ویجب السعي وترک البیع بالأذان الأول لقولہ تعالی: یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلَاةِ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوْا الْبَیْعَ (الجمعة: ۹) وإنما اعتبر الأذان الأول لحصول الإعلام بہ․․․ وہذا القول ہو الصحیح في المذہب․ (البحر الرائق: ۲/۲۷۳، زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند