• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 2129

    عنوان:

    مختلف دنوں میں عید کی نماز پڑھنے کی وجہ کیاہے؟ کیا ہندستان سے باہر چاند کا نظر آنا قابل قبول نہیں ہے؟ جب کہ فتوی دارالعلوم جلد ۶/ صفحہ ۰۸۳/۵۸۳/۶۸۲/ پر ہے کہ پوری دنیا میں کہیں اگر چاند نظر آئے تو اس پر عمل کیا جائے گا۔

    سوال:

    مختلف دنوں میں عید کی نماز پڑھنے کی وجہ کیاہے؟ کیا ہندستان سے باہر چاند کا نظر آنا قابل قبول نہیں ہے؟ جب کہ فتوی دارالعلوم جلد ۶/ صفحہ ۰۸۳/۵۸۳/۶۸۲/ پر ہے کہ پوری دنیا میں کہیں اگر چاند نظر آئے تو اس پر عمل کیا جائے گا۔

    جواب نمبر: 212901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1479/ ب= 1306/ ب

     

    کسی دوسرے مقام سے چاند کی خبر بطریق موجب آئے تو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ بطریق موجب کا مطلب یہ ہے کہ دو عادل متقی پرہیزگار صحیح العقیدہ آدمی آکر اپنے چشم دید چاند دیکھنے کی گواہی دیں۔ فتاویٰ دارالعلوم میں جو کچھ لکھا ہے اس کا یہی مفہوم ہے۔ البتہ اتنے دور ملک کی خبر معتبر نہ ہوگی جہاں کی خبر ماننے سے ہمارے یہاں کامہینہ ۲۸ دن کا یا ۳۱ دن کا لازم آئے۔ شریعت کی طرف سے سہولت دی گئی ہے کہ اگر سخت مسلسل بارش کی وجہ سے گھر سے باہر نکل کر عید کی نماز پڑھنا مشکل ہو، یا کوئی بلوہ پہلے دن ہوگیا یا چاند کی خبر بطریق موجب کہیں سے نہیں آئی تو دوسرے دن عید کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند