• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 178063

    عنوان: بستی کی تیسری مسجد میں مصلحتاً جمعہ شروع کرنے کا حکم

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ ہمارے یہاں تین مساجد ہیں ایک مسجد میں بہت پہلے سے نماز جمعہ اداء کی جارہی ہے اور دوسری مسجد میں بھی پندرہ سولہ سے جمعہ کی نماز ہورہی ہے اب معلوم یہ کر نا ہے کہ تیسری مسجد کے لوگ بہت زور لگا رہے ہیں کہ یہاں بھی نماز جمعہ ادا کی جائے تاکہ اس محلہ کے حالات جو بگڑے ہوئے ہیں ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے کیونکہ اور نماز میں تو سب آتے نہیں اوردوسری مسجدوں میں بھی بعض لوگ نہیں جاتے ہیں ملاقات اور گشت میں بھی وہ نہیں ملتے بہا نہ کر جاتے ہیں اس لیے محلہ والوں کا بہت اصرار ہورہا ہے کہ اسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جائے تاکہ ہر ایک کی اصلاح ہوسکے اب میں کیا کروں؟

    جواب نمبر: 17806301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:702-529/N=9/1441

    اگر آپ کا گاوٴں، قریہ کبیرہ بہ حکم قصبہ ہے، یعنی: وہاں جمعہ کی شرائط پائی جاتی ہیں اور پہلی اور دوسری مسجد، جمعہ کے دن نمازیوں سے بھرجاتی ہے یا وہ دونوں، تیسری مسجد سے کافی فاصلے پر ہیں کہ تیسری مسجد والوں کو وہاں جانے میں دقت وپریشانی ہوتی ہے یا تیسری مسجد کا علاقہ مسلم وغیر مسلم مخلوط آبادی کا ہے اور نماز جمعہ کے لیے پہلی یا دوسری مسجد جانے کی صورت میں تیسری مسجد والوں کو غیر مسلموں کی طرف سے اطمینان نہیں ہے تو تیسری مسجد میں جمعہ شروع کرنے میں کچھ حرج نہیں؛ بلکہ شروع کردینا چاہیے؛ تاکہ جو لوگ جمعہ بھی نہیں پڑھتے، وہ کم از کم جمعہ پڑھ لیا کریں؛ ورنہ تیسری مسجد میں جمعہ قائم کرنا بہتر نہیں اگرچہ جائز ہے، ایسی صورت میں بے نمازیوں کو نماز کی ترغیب دینی چاہیے اور اُن پر دینی محنت کرنی چاہیے۔

    (وتوٴدی في مصر واحد بمواضع کثیرة) مطلقاً علی المذھب، وعلیہ الفتوی، شرح المجمع للعیني وإمامة فتح القدیر دفعاً للحرج (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ۳: ۱۵، ۱۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۵: ۲۸، ۲۹، ت: الفرفور، ط: دمشق)، قولہ: ”مطلقاً“: …ومقتضاہ أنہ لا یلزم أن یکون التعدد بقدر الحاجة کما یدل علیہ کلام السرخسي الآتي، قولہ: ”علی المذھب“: فقد ذکر الإمام السرخسي أن الصحیح من مذھب أبي حنیفةجواز إقامتھا في مصر واحد في مسجدین وأکثر، وبہ نأخذ لإطلاق ”لا جمعة إلا في مصر“، شرط المصر فقط (رد المحتار)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند