• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 177419

    عنوان: جمعہ کی اذان ثانی ترک کرنے کا حکم

    سوال: امید کرتا ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے آپ بخیر و عافیت سے ہوں گے۔ بندہ محمد سہیل شیخ جنوبی افریقہ سے، حضرت والا بندے کا سوال یہ ہے کہ اگر خطبہ جمعہ سے قبل جو اذان دی جاتی ہے اگر کسی مصلحت کے تحت اذان نہ کہی جائے تو نماز میں کیا خرابی لازم آئیگی نماز ہوگی یا متعلق رہے گی؟

    جواب نمبر: 17741901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:628-499/N=8/1441

    خطبہ جمعہ سے پہلے جو اذان دی جاتی ہے، وہ بھی سنت موٴکدہ، واجب کے قریب اور شعائر اسلام میں سے ہے؛ بلکہ جمعہ کی اصل اذان وہی ہے؛ لہٰذا مصلحت کے نام پر اذان ثانی کے ترک کی اجازت نہ ہوگی۔ اور اگر بلا عذر شرعی، محض مصلحت کے نام سے اس کا ترک کیا گیا تو نماز جمعہ تو ہوجائے گی؛ لیکن اذان کے ترک کی وجہ سے جماعت کا ثواب گھٹ جائے گا۔ اور اگر سوال میں مصلحت کی وضاحت کردی جاتی تو ممکن تھا کہ اُس کی رعایت کے لیے کسی متبادل کی رہنمائی کردی جاتی۔

    (ویوٴذن) ثانیاً (بین یدیہ)، أي: الخطیب (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ۳: ۳۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۵: ۸۲، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔ قولہ: ”ویوٴذن ثانیاً بین یدیہ“: أي: علی سبیل السنیة کما یظھر من کلامھم، رملي (رد المحتار)۔

    قال في شرح المنیة: واختلفوا في المراد بالأذان الأول، فقیل: باعتبار المشروعیة، وھو الذي بین یدي المنبر؛ لأنہ الذي کان أولاً في زمنہ علیہ الصلاة والسلام وزمن أبي بکر وعمر حتی أحدث عثمان الأذان الأول علی الزوراء حین کثر الناس، والأصح أنہ الأول باعتبار الوقت، وھو الذي یکون علی المنارة بعد الزوال اھ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ۳: ۳۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۵: ۸۲، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    (إعلام مخصوص) لم یقل بدخول الوقت لیعم الفائتة و بین یدي الخطیب۔……(وھو سنة)…(موٴکدة) ھي کالواجب في لحوق الإثم (للفرائض) الخمس (في وقتھا ولو قضاء) لأنہ سنة للصلاة الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الأذان، ۲:۴۷- ۴۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۵۶۹- ۵۷۶، ت: الفرفور، ط: دمشق)، قولہ: ”للفرائض الخمس“: دخلت الجمعة، بحر (رد المحتار)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند