• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 14412

    عنوان:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ایک مسجد میں جمعہ کے دن جہاں امام صاحب کی تقریر ہورہی تھی ایک صاحب دورانِ تقریر اس اجتماعی عمل سے ہٹ کر قرآن کریم کی تلاوت کررہے تھے۔ ان کو روکنے پر انھوں نے کہا کہ اردو تقریر کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ۔ اس لیے تقریر سننے کے مقابل قرآن پڑھنا افضل ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر نہیں، تو دوران تقریر قرآن پڑھنا کیسا ہے او راجتماعی عمل سے ہٹ کر قرآن پڑھنا کیسا ہے؟ شریعت کا حکم واضح فرماویں۔

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ایک مسجد میں جمعہ کے دن جہاں امام صاحب کی تقریر ہورہی تھی ایک صاحب دورانِ تقریر اس اجتماعی عمل سے ہٹ کر قرآن کریم کی تلاوت کررہے تھے۔ ان کو روکنے پر انھوں نے کہا کہ اردو تقریر کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ۔ اس لیے تقریر سننے کے مقابل قرآن پڑھنا افضل ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر نہیں، تو دوران تقریر قرآن پڑھنا کیسا ہے او راجتماعی عمل سے ہٹ کر قرآن پڑھنا کیسا ہے؟ شریعت کا حکم واضح فرماویں۔

    جواب نمبر: 1441201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1042=/847/ل

     

    نمازی حضرات اگر رضامند ہوں تو اذان ثانی سے پہلے ضروری مسائل اور دینی احکام مختصراً بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ صحابہٴ کرام کے عمل سے ثابت ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے روز خطبہ سے پہلے منبر کے قریب کھڑے ہوکر احادیث بیان فرمایا کرتے تھے، اس کے بعد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ خطبہ فرماتے تھے (مستدرک حاکم) اس لیے اگر کوئی عالم جمعہ کی نماز سے پہلے ضروری احکام بیان کرے تو اس وقت تلاوت قرآن کو موقوف کرکے تقریر و وعظ سننا افضل ومستحسن ہے، واضح رہے کہ جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے تقریر و وعظ کہنا اسی وقت درست ہے جب کہ لوگ نماز میں مشغول نہ ہوں، ورنہ جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند