• عبادات >> جمعہ و عیدین

    سوال نمبر: 12446

    عنوان:

    کیا جمعہ کا خطبہ اردو میں دینا جائز ہیں،اگر نہیں تو کیوں نہیں تفصیل سے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    سوال:

    کیا جمعہ کا خطبہ اردو میں دینا جائز ہیں،اگر نہیں تو کیوں نہیں تفصیل سے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 1244601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 685=643/ب

     

    جمعہ کا خطبہ صرف وعظ وتقریر نہیں ہے بلکہ یہ ایک عبادت ہے، اور نماز ظہر کی دو رکعت کا قائم مقام ہے۔ اسے باوضو دینا حمد وثنا اللہ کی بیان کرنا، کھڑے ہوکر خطبہ دینا، خلفائے راشدین کا ذکر خیر کرنا یہ سب اس کے سنن وآداب میں سے ہیں۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے او رحضرات صحابہٴ کرام سے کبھی عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں خطبہ دینا ثابت نہیں، جب کہ صحابہٴ کرام نے بہت سے ممالک فتح کیے وہاں رہے وہاں کی زبان سیکھی مگر پھر بھی وہاں کے باشندوں کی زبان میں جمعہ کا خطبہ نہیں بلکہ اپنی اسلامی سرکاری زبان میں ہی خطبہ دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک یہی سنت متوارثہ چلی آرہی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے مسوی ومصفی میں اس کی تصریح فرمائی ہے۔ حضرت مولانا عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ نے بھی شرح وقایہ کے حاشیہ عمدة الرعایة میں بھی تحریر فرمایا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند