• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 992

    عنوان:

    یہاں پاکستان میں ایک مسئلہ بہت بڑھ گیا ہے، اس کا سوال آپ سے قیامت کے روز ہوگا اور میں حشر کے دن کھڑا ہوکر علمائے دیوبند کو پکڑلوں گا کہ اے خدا!ان لوگوں نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا اور امت گمراہ ہوتی رہی ان کے دومعنی فتووں سے۔  کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیوی حیات قبر میں حاصل ہے یا نہیں؟

    سوال:

    یہاں پاکستان میں ایک مسئلہ بہت بڑھ گیا ہے، اس کا سوال آپ سے قیامت کے روز ہوگا اور میں حشر کے دن کھڑا ہوکر علمائے دیوبند کو پکڑلوں گا کہ اے خدا!ان لوگوں نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا اور امت گمراہ ہوتی رہی ان کے دومعنی فتووں سے۔ کچھ علماء اپنے آپ کو دیوبندی کہتے تھے اور عقیدہ غلط تھا۔دوسرے بھی اپنے آپ کو دیوبندی کہتے تھے ، ان کا عقیدہ کچھ اور تھا۔اگر دارالعلوم دیوبند سے پوچھتے تھے تو وہ جواب گول کردیتے تھے۔ امت گمراہ ہورہی تھی۔ مسئلہ یہ ہے:

    آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برزخی حیات تو حاصل ہے اور آپ کا جسم مبارک بھی قبر اطہر میں صحیح سالم موجود ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قبر مبارک میں ایسی ہے جیسے ہم زندہ ہیں یا نہیں؟ (دنیوی زندگی) اور آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے پاس درود پڑھا جائے تو آپ براہ راست سنتے ہیں یا فرشتے پہنچاتے ہیں عالم برزخ میں؟

    ایک مرتبہ پھر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیوی حیات قبر میں حاصل ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 99201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 741/ب = 702/ب)

     

    اس مسئلہ کو بے شمار مرتبہ لکھا جاچکا ہے۔ آپ اس مسئلہ کی تحقیق چاہتے ہیں تو تسکین الصدور شیخ الحدیث ابوالزاہد مولانا سرفراز خاں صفدر کی کتاب مطالعہ کریں۔ انھوں نے علمائے دیوبند کے مسلک کوخوب واضح کرکے لکھ دیا ہے۔ اور متعدد شبہات کے جوابات بھی دیئے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند