• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 971

    عنوان:

    وسیلہ کو آپ کیوں جائز کہتے ہیں حالاں کہ مماتی دیوبندی اور ائمہٴ اربعہ رحمہم اللہ اسی کو مانتے ہیں کہ وسیلہ ناجائز ہے (ذات کا بھی اور مُردوں کا بھی)؟ اس لیے لوگوں کو صحیح بتایا کریں اور اکابر کی غلطی کو مان لیں۔

    سوال:

    وسیلہ کو آپ کیوں جائز کہتے ہیں حالاں کہ مماتی دیوبندی اور ائمہٴ اربعہ رحمہم اللہ اسی کو مانتے ہیں کہ وسیلہ ناجائز ہے (ذات کا بھی اور مُردوں کا بھی)؟ اس لیے لوگوں کو صحیح بتایا کریں اور اکابر کی غلطی کو مان لیں۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!

    جواب نمبر: 97101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 806/ب = 52/تب)

     

    وسیلے کا جواز احادیث مبارکہ سے ثابت ہے خواہ وسیلہ زندوں سے اختیار کیا جائے یا مردوں سے، (ترمذی: ۱۹۸ وابن ماجہ ۹۹) میں حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ذاتِ اقدس کے وسیلے سے دعا کرنے کا حکم فرمایا تھا اور دعا کے کلمات بھی بتائے تھے جن کے الفاظ یہ ہیں: اللھم إني أسئلک وأتوجّہ إلیک بمحمد نبيّ الرحمة دوسری حدیث بخاری باب الاستسقاء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے أن عمر بن الخطاب کان إذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبد المطلب، فقال: کنا نتوسل إلیک بنبیّنا، فتسقینا، وإنا نتوسل إلیک بعم نبیّنا فاسقنا فیسقوا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہٴ کرام کی موجودگی میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے وسیلے سے دعا مانگی اور کسی نے نکیر نہیں کی۔ پس باجماع صحابہ توسل بالحی کا ثبوت ہوا۔ غیر مقلدوں کے مشہور محدث علامہ شوکانی بھی وسیلے کے جواز کے قائل ہیں، چنانچہ وہ حدیث مذکور کی شرح میں لکھتے ہیں: ویستفاد من قصة العباس استحباب الاستشفاع بأھل الخیر والصلاح وأھل بیت النبوة یہ دونوں احادیث زندوں کے توسل کے بارے میں تو صریح ہیں، رہا توسل بالاموات کا مسئلہ تو اس پر صحابی حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کا عمل موجود ہے۔ صحابی مذکور نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا کرنے کو کہا تھا، اس نے دعا کی اور وہ قبول بھی ہوئی (رواہ البیھقي من طریقین نحوہ وأخرج الطبراني في الکبیر والمتوسط، کذا في إنجاح الحاجة، ص:۹۹) اسی طرح بیہقی اور ابن ابی شیبہ میں ایک دوسری حدیث مروی ہے عن مالک الدار قال أصاب الناسَ قحط في زمان عمر بن الخطاب فجاء رجل إلی قبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ استسق لأمتک؛ فإنھم قد ھلکوا فأتاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في منامہ فقال ائت عمر فاقرأہ السلام وأخبرہ، والقصة مذکورة في الاستیعاب (کذا في إنجاح الحاجة) تیسری بات یہ کہ جب توسل بالاحیاء کا مسئلہ باجماعِ صحابہ ثابت ہے تو توسل بالاموات بدرجہٴ اولی ثابت ہوگا؛ کیوں کہ مردہ تغیر احوال سے مامون ہے جب کہ زندہ اس سے مامون نہیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے من کان منکم مستنًا فلیَسْتنَّ بمن قدمات؛ فإن الحيّ لا توٴمَن علیہ الفتنة (رواہ رزین کذا في مشکوة) یہ اور اس کے علاوہ دیگر دلائل کی وجہ سے ہم توسل کے قائل ہیں۔ مماتی دیوبندی کے کیا دلائل ہیں؟ ائمہ اربعہ جواز توسل کے قائل نہیں۔ اس کی تصریح باحوالہ لکھ کر بھیجیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند