• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 876

    عنوان:

    حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین مکرمین کے خلاف پروپیگنڈہ: کچھ لوگ اس خیال کی اشاعت کررہے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین مکرمین (حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا) دونوں (نعوذ باللہ، نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ) مشرک و کافر مرے۔ یہ لوگ کچھ احادیث نقل کرتے ہیں۔۔۔

    سوال:

    حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین مکرمین کے خلاف پروپیگنڈہ: کچھ لوگ اس خیال کی اشاعت کررہے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین مکرمین (حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا) دونوں (نعوذ باللہ، نعوذ باللہ ، نعوذ باللہ) مشرک و کافر مرے۔ یہ لوگ کچھ احادیث نقل کرتے ہیں:

    حدیث ۱: ابن مسعود سے روایت ہے کہ ملیکہ کے دو بیٹے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ہماری ماں اپنے شوہر کا احترام کرتی تھی اور اپنے بچوں پر شفیق تھی۔ انھوں نے پھر مہمانوں وغیرہ کے متعلق ذکر کیا ، پھر بتایا کہ لیکن ایام جاہلیت میں انھوں نے ایک لڑکی زندہ درگور کردی تھی۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں جہنم میں ہے۔ وہ اس حال میں واپس ہونے لگے کہ تکلیف کا اثر ان کے چہرہ پر نمایاں تھا۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس بلایا ، وہ خوشی خوشی اس خیال میں آئے کہ شاید معاملہ بدل گیا ہو۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری ماں تمہاری ماں کے ساتھ ہے۔ (مسند احمد، 3598)

    حدیث ۲:عن انس ان رجلا قال یارسول اللہ! این ابی؟ قال: فی النار ، فلما قفی دعاہ و قال: ان ابی و اباک فی النار (صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 398)

    جواب نمبر: 87601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 833/ب = 783/ب)

     

    اس مسئلہ میں سب سے زیادہ اسلم طریقہ یہ ہے کہ توقف كیا جائے، کیونکہ علماء کے نزدیک خود یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین ایمان نہیں لائے تھے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ وہ دونوں ایمان لے آئے تھے۔ دلائل میں دونوں کے پاس متعدد احادیث ہیں۔ اس لیے سلامتی اسی میں ہے کہ ہم سکوت اختیار کریں۔ یہ مسئلہ عقائد اسلام میں سے نہیں ہے، نہ ہی عمل سے اس کا کوئی تعلق ہے، لہٰذا خاموشی اختیار کرنا سب سے بہتر راستہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند