• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 177976

    عنوان: رزق كی تنگی كے خوف سے ولادت روكنے كی تدبیر كرنا؟

    سوال: مجھے الحمد اللہ دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی، اب میری بیوی چاہتی ہے کہ ہم پانچ سال بعد تیسرا بچہ پیدا کرنے کی پلاننگ کریں، لیکن میں یہ بات نہیں مان رہا، اور ہم ہفتے میں دو بار جماع کرتے ہیں لیکن میری بیوی مجھے اس کے اندر منی ڈالنے سے منع کرتی ہے اور منی کو فرج سے باہر ضائع کر دیتا ہوں، اور حلانکہ میری بیوی اور بچے صحت مند ہیں ۔لیکن میری بیوی سختی سے منع کرتی ہے کہ منی کو فرج سے باہر ضائع کر دو، تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں منی کو اس طرح ضائع کر سکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 17797601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 744-599/D=08/1441

    (۱) لمبی مدت کے لئے بچہ کی ولادت روکنے کی تدبیر رزق کے ڈر سے کرنا حرام اور ایمان کی کمزوری ہے کیونکہ قرآن پاک میں حق سبحانہتعالی نے ارشاد فرمایا: جس کا ترجمہ یہ ہے: ”اور اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو“ (کیونکہ سب کے رازق ہم ہیں) ہم ان کو رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی (اگر رازق تم ہوتے تو ایسی باتیں سوچتے) بیشک ان کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے“ (بنی اسرائیل، آیت: ۳۱) ۔

    آیت مذکورہ میں اگرچہ پیدا ہو جانے کے بعد قتل کرنے کا مسئلہ ذکر کیا گیا ہے لیکن ولادت سے پہلے ضبط تولید کا مروجہ طریقہ رزق کے خوف سے احتیار کرنے پر بھی آیت کریمہ سے روشنی پڑتی ہے چنانچہ مفتی محمد شفیع صاحب معارف القرآن میں تحریر فرماتے ہیں: مسئلہ: قرآن کریم کے اس ارشاد سے اس معاملہ پر بھی روشنی پڑتی ہے جس میں آج کی دنیا گرفتار ہے کہ کثرت آبادی کے خوف سے ضبط تولید (منصوبہ بندی) کو رواج دے رہی ہے اس کی بنیاد بھی اسی جاہلانہ فلسفہ پر ہے کہ رزق کا ذمہ دار اپنے آپ کو سمجھ لیا گیا ہے یہ معاملہ قتل اولاد کے برابر گناہ نہ سہی مگر اس کے مذموم ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ (معارف القرآن: ۵/۴۷۴)

    (۲) لمبی مدت کے لئے تولید روک لینا خوش عیشی کے مقصد سے مکروہ تحریمی اور مقصد نکاح کی خلاف ورزی ہے۔

    (۳) لمبی مدت کے لئے تولید روک لینا عورت یا بچہ کی مصلحت سے برا ہے مگر مجبوری میں گنجائش ہے یہاں جو تفصیل آپ نے تحریر کی یہ کوئی مجبوری کی بات نہیں ہے پس لمبی مدت کے لئے ضبط تولید کرنا برا ہوگا۔

    ----------------------------------------

    جواب درست ہے؛ البتہ مزید عرض ہے کہ بچوں کی مناسب تربیت وغیرہ کے پیش نظر عزل وغیرہ کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مناسب وقفہ کرنے کی گنجائش ہے۔ (س)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند