• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 177269

    عنوان: كن اعمال كا ایصال ثواب كیا جاسكتا ہے؟

    سوال: (۱) ایصال ثواب کی پوری تفصیل بتائیں۔ (۲) کیا فرض اور واجب کے علاوہ ہر عمل کا ایصال ثواب ہوسکتا ہے؟ (۳) چاشت، اشراق ، تہجد کے نوافل کا ایصال ثواب کرسکتے ہیں؟ (۴) صدقہ ، خیرات، نفل حج، نفل روزہ، کا بھی ایصال ثواب کرسکتے ہیں؟ (۵) کلمہ اور قرآن کا بھی کرسکتے ہیں؟ (۶) ایصال ثواب کی نیت دل میں ہے بنا بولے کرسکتے ہیں یا بان سے کہنا ضروری ہے؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 17726901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 711-505/SN=07/1441

    ( ا تا ۲) نماز، روزہ، صدقہ خیرات الغرض ہر نیک عمل کا ایصال ثواب ہو سکتا ہے؛ بلکہ راجح قول کے مطابق فرض اور واجب کا ثواب بھی دوسروں کو بخشا جا سکتا ہے۔ وفي البحر: من صام أو صلّی أو تصدّق وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات والأحیاء جاز․ ․․․․․ وبہذا علم أنّہ لا فرق بین أن یکون المجعول لہ میتا أو حیًّا․ ․․․․․․ وأنّہ لا فرق بین الفرض والنّفل اھ وفی جامع الفتاوی: وقیل: لا یجوز فی الفرائض اھ (شامی: ۳/۱۵۲، ط: زکریا)

    (۳) جی ہاں! ہو سکتا ہے۔

    (۴) جی ہاں کر سکتے ہیں۔

    (۵) کر سکتے ہیں۔

    (۶) دل کی نیت کافی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند