• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 176754

    عنوان: ”یا رسول اللہ کرم کیجئے“ کہنے کا حکم

    سوال: سوال یہ ہے کہ پیش امام کا نماز کے بعد ہاتھ پھیلا کہ یوں دعا مانگنا؛ ” یا الہی کرم کیجئے مصطفی کے واسطے، یا رسول اللہ کرم کیجئے خدا کے واسطے، “ شرک کے درجے میں آئے گا یا نہیں؟

    جواب نمبر: 17675401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:629-155T/sn=7/1441

    ”یا رسول اللہ کرم کیجئے“ کا مقصد اگر حضورﷺ کو مشکل کشا سمجھ کر انہی سے مدد مانگنا ہے تو اس طرح دعا مانگنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ ”معطی“ اور ”مشکل کشا“ صرف خدا کی ذات اقدس ہے، حضور ﷺ کو یہ صفت دینا شرکیہ عمل ہے، ا س سے اجتناب ضروری وواجب ہے؛ ہاں حضور ﷺکے وسیلے سے اللہ کے حضور دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    الثانی أن الناس قد أکثروا من دعاء غیر اللہ تعالی من الأولیاء الأحیاء منہم والأموات وغیرہم ، مثل یا سیدی فلان أغثنی ، ولیس ذلک من التوسل المباح فی شیء، واللائق بحال المؤمن عدم التفوہ بذلک وأن لا یحوم حول حماہ، وقد عدّہ أناس من العلماء شرکا وأن لا یکنہ، فہو قریب منہ ولا أری أحدا ممن یقول ذلک إلا وہو یعتقد أن المدعو الحی الغائب أو المیت المغیب یعلم الغیب أو یسمع النداء ویقدر بالذات أو بالغیر علی جلب الخیر ودفع الأذی وإلا لما دعاہ ولا فتح فاہ، وفی ذلک بلاء من ربکم عظیم، فالحزم التجنب عن ذلک وعدم الطلب إلا من اللہ تعالی القوی الغنی الفعال لما یرید . ومن وقف علی سر ما رواہ الطبرانی فی معجمہ من أنہ کان فی زمن النبی صلّی اللہ علیہ وسلّم منافق یؤذی المؤمنین فقال الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ: قوموا بنا نستغیث برسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم من ہذا المنافق فجاؤوا إلیہ، فقال: إنہ لا یستغاث بی إنما یستغاث باللہ تعالی لم یشک فی أن الاستغاثة بأصحاب القبور- الذین ہم بین سعید شغلہ نعیمہ وتقلبہ فی الجنان عن الالتفات إلی ما فی ہذا العالم، وبین شقی ألہاہ عذابہ وحبسہ فی النیران عن إجابة منادیہ والإصاخة إلی أہل نادیہ- أمر یجب اجتنابہ ولا یلیق بأرباب العقول ارتکابہ إلخ (تفسیر الألوسی = روح المعانی 3/ 298،سولرة المائدة ، ط: بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند