• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 176611

    عنوان: کیا حضور ﷺ اپنی مرضی سے کسی بھی شخص کو اپنا دیدار کرواتے ہیں؟

    سوال: اسلام علیکم مفتی صاحب، امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے. میں کچھ سوالات کے جوابات کے بارے میں معلومات و تفصیلات جاننا چاہتا ہوں. میرا پہلا سوال ہے کہ کیا حضور ﷺ اپنی مرضی سے کسی بھی شخص کو اپنا دیدار کرواتے ہیں یا پھر اللہ تعالیٰ ان کو حکم کرتا ہے کہ میرے فلانے بندے کو اپنی زیارت کروائیں.؟ درست عقیدہ کیا ہے.؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ داڑھی ایک مشت صرف رکھنا سنتِ کریمہ ہے یا پھر اس سے زیادہ رکھنا.؟ اور کیا مونچھیں سنت کی نیت سے رکھی جاسکتی ہیں یا نہیں.؟ براہ کرم مفصل و مدلل جواب میرے تمام سوالات کا دیجئے گا. اور کیا یہ بات صحیح ہے کہ مونچھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سنت ہے تو کیا انہوں نے بڑی مونچھیں رکھی تھی یا چھوٹی.؟ نیز کیا مونچھوں کے بال ناپاک ہوتے ہیں کیا.؟ حالانکہ حضور ﷺ نے تو مونچھیں کتروانے کا حکم دیا ہے.! تو ہمیں کیا کرنا چاہیے.؟ برائے مہربانی جلد از جلد جوابات ارسال فرمائیں. جزاك اللّٰه

    جواب نمبر: 17661101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (١) خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خواب دیکھنے والے کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کا مثال پیدا کر دیتے ہیں اور خواب دیکھنے والا اسی مثال کا دیدار کرتا ہے، اس کے لیے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی ضرورت ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جس کو چاہیں اپنا دیدار کروائیں ؛بلکہ اختیار محض اللہ کا ہے کہ جس کو چاہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کروائیں اور جس کو نہ چاہیں نہ کروائیں۔(٢)داڑھی کم از کم بقدر یک مشت کے رکھنا واجب ہے، ایک مشت سے زائد میں اختیار ہے کہ چاہے چھوڑ دے یا کتروا دے بلکہ طولِ فاحش كی صورت میں كتروانا ہی بہتر ہے۔(٣) احادیث میں مونچھ کاٹنے کا حکم آیا ہے لہذا مونچھ بڑا رکھنا سنت نہیں؛ بلکہ مونچھ مبالغہ کے ساتھ کاٹنا سنت ہے اور تھوڑا بڑا رکھنا جائز ہے؛ البتہ مونچھ اتنا بڑا رکھنا کہ اوپر کے ہونٹ سے تجاوز کر جائے اور کھانے پینے کی چیز اس میں لگی رہے جائز نہیں۔اور بعض روایات سے جو پتہ چلتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مونچھ ذرا بڑا تھا اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مونچھ بڑا رکھتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مونچھ ذرا بڑے ہونے کے بعد  کاٹتے تھے،اور ایك  رائے یہ بھی ہے كہ مونچھ كو بڑا نہیں كرتے تھے بلكہ اس كے دونوں كناروں كو بڑا ركھتے تھے ۔قوله تعالى :ليس لك من الأمر شيء (سورة آل عمران رقم الآية 128)

    وفي منهاج السنة النبوية :ﻭاﻟﻨﺎﺋﻢ ﻳﺮﻯ ﻓﻲ اﻟﻤﻨﺎﻡ ﺇﻧﺴﺎﻧﺎ ﻳﺨﺎﻃﺒﻪ ﻭﻳﺸﺎﻫﺪﻩ، ﻭﻳﺠﺮﻱ ﻣﻌﻪ ﻓﺼﻮﻻ ﻭﺫﻟﻚ اﻟﻤﺮﺋﻲ ﻗﺎﻋﺪ ﻓﻲ ﺑﻴﺘﻪ، ﺃﻭ ﻣﻴﺖ ﻓﻲ ﻗﺒﺮﻩ، ﻭﺇﻧﻤﺎ ﺭﺃﻯ ﻣﺜﺎﻟﻪ. ﻭﻛﺬﻟﻚ ﻳﺮﻯ ﻓﻲ اﻟﻤﺮﺁﺓ اﻟﺸﻤﺲ ﻭاﻟﻘﻤﺮ ﻭاﻟﻜﻮاﻛﺐ ﻭﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ اﻟﻤﺮﺋﻴﺎﺕ، ﻭﻳﺮاﻫﺎ ﺗﻜﺒﺮ ﺑﻜﺒﺮ اﻟﻤﺮﺁﺓ، ﻭﺗﺼﻐﺮ ﺑﺼﻐﺮﻫﺎ، ﻭﺗﺴﺘﺪﻳﺮ ﺑﺎﺳﺘﺪاﺭﺗﻬﺎ، ﻭﺗﺼﻔﻮا ﺑﺼﻔﺎﺋﻬﺎ، ﻭﺗﻠﻚ ﻣﺜﺎﻝ اﻟﻤﺮﺋﻴﺎﺕ اﻟﻘﺎﺋﻤﺔ ﺑﺎﻟﻤﺮﺁﺓ، ﻭﺃﻣﺎ ﻧﻔﺲ اﻟﺸﻤﺲ اﻟﺘﻲ ﻓﻲ اﻟﺴﻤﺎء، ﻓﻠﻢ ﺗﺼﺮ ﺫاﺗﻬﺎ ﻓﻲ اﻟﻤﺮﺁﺓ.( منهاج السنة 5/378)

    ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: " ﺧﺎﻟﻔﻮا اﻟﻤﺸﺮﻛﻴﻦ: ﻭﻓﺮﻭا اﻟﻠﺤﻰ، ﻭﺃﺣﻔﻮا اﻟﺸﻮاﺭﺏ " ﻭﻛﺎﻥ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ: «ﺇﺫا ﺣﺞ ﺃﻭ اﻋﺘﻤﺮ ﻗﺒﺾ ﻋﻠﻰ ﻟﺤﻴﺘﻪ، ﻓﻤﺎ ﻓﻀﻞ ﺃﺧﺬﻩ»رواه البخاري (5892)وﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: «§اﻧﻬﻜﻮا اﻟﺸﻮاﺭﺏ، ﻭﺃﻋﻔﻮا اﻟﻠﺤﻰ»رواه البخاري (5893)

    ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺭﻗﻢ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺱﻟﻢ، ﻗﺎﻝ: «ﻣﻦ ﻟﻢ ﻳﺄﺧﺬ ﻣﻦ ﺷﺎﺭﺑﻪ ﻓﻠﻴﺲ ﻣﻦا»رواه النسائي (14)وقال العجلوني: سنده قوي. (كشف الخفاء 2/375)

    وﻋﻦ ﻋﺎﻣﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﺰﺑﻴﺮ، «ﺃﻥ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﻛﺎﻥ ﺇﺫا ﻏﻀﺐ ﻓﺘﻞ ﺷﺎﺭﺑﻪ، ﻭﻧﻔﺦ»رواه الطبراني في الكبير (54)وقال الهيثمي :، ﻭﺭﺟﺎﻟﻪ ﺭﺟﺎﻝ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﺧﻼ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ، ﻭﻫﻮ ﺛﻘﺔ ﻣﺄﻣﻮﻥ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻋﺎﻣﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ اﻟﺰﺑﻴﺮ ﻟﻢ ﻳﺪﺭﻙ ﻋﻤﺮ. (مجمع الزوائد 5/166)وفي التمهيد :ﻭﻣﺎ اﺣﺘﺞ ﺑﻪ ﻣﺎﻟﻚ ﺃﻥ ﻋﻤﺮ ﻛﺎﻥ ﻳﻔﺘﻞ ﺷﺎﺭﺑﻪ ﺇﺫا ﻏﻀﺐ ﺃﻭ اﻫﺘﻢ ﻓﺠﺎﺋﺰ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻛﺎﻥ ﻳﺘﺮﻛﻪ ﺣﺘﻰ ﻳﻤﻜﻦ ﻓﺘﻠﻪ ﺛﻢ ﻳﺤﻠﻘﻪ ﻛﻤﺎ ﺗﺮﻯ ﻛﺜﻴﺮا ﻣﻦ اﻟﻨﺎﺱ ﻳﻔﻌﻠﻪ  ( التمهيد 21/66)

    وفي فتح الباري :ﻗﺎﻝ اﻟﻄﺤﺎﻭﻱ اﻟﺤﻠﻖ ﻫﻮ ﻣﺬﻫﺐ ﺃﺑﻲ ﺣﻨﻴﻔﺔ ﻭﺃﺑﻲ ﻳﻮﺳﻒ ﻭﻣﺤﻤﺪ اﻩ ﻭﻗﺎﻝ اﻷﺛﺮﻡ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﻤﺪ ﻳﺤﻔﻲ ﺷﺎﺭﺑﻪ ﺇﺣﻔﺎء ﺷﺪﻳﺪا ﻭﻧﺺ ﻋﻠﻰ ﺃﻧﻪ ﺃﻭﻟﻰ ﻣﻦ اﻟﻘﺺ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻘﺮﻃﺒﻲ ﻭﻗﺺ اﻟﺸﺎﺭﺏ ﺃﻥ ﻳﺄﺧﺬ ﻣﺎ ﻃﺎﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﺸﻔﺔ ﺑﺤﻴﺚ ﻻ ﻳﺆﺫﻱ اﻷﻛﻞ ﻭﻻ ﻳﺠﺘﻤﻊ ﻓﻴﻪ اﻟﻮﺳﺦ (فتح الباري 10/347)وفي العقود الدرية :ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻌﻼﺋﻲ ﻓﻲ ﻛﺘﺎﺏ اﻟﺼﻮﻡ ﻗﺒﻴﻞ ﻓﺼﻞ اﻟﻌﻮاﺭﺽ ﺇﻥ اﻷﺧﺬ ﻣﻦ اﻟﻠﺤﻴﺔ ﻭﻫﻲ ﺩﻭﻥ اﻟﻘﺒﻀﺔ ﻛﻤﺎ ﻳﻔﻌﻠﻪ ﺑﻌﺾ اﻟﻢﻏﺎﺭﺑﺔ ﻭﻣﺨﻨﺜﺔ اﻟﺮﺟﺎﻝ ﻟﻢ ﻳﺒﺤﻪ ﺃﺣﺪ ﻭﺃﺧﺬ ﻛﻠﻬﺎ ﻓﻌﻞ ﻳﻬﻮﺩ ﻭاﻟﻬﻨﻮﺩ ﻭﻣﺠﻮﺱ اﻷﻋﺎﺟﻢ (العقود الدرية 1/329) ﻭاﻟﺘﻘﺼﻴﺮ ﻓﻴﻬﺎ ﺳﻨﺔ، ﻭﻫﻮ ﺃﻥ ﻳﻘﺒﺾ اﻟﺮﺟﻞ ﻟﺤﻴﺘﻪ ﻓﻤﺎ ﺯاﺩ ﻋﻠﻰ ﻗﺒﻀﺘﻪ ﻗﻄﻌﻪ ﻷﻥ اﻟﻠﺤﻴﺔ ﺯﻳﻨﺔ ﻭﻛﺜﺮﺗﻬﺎ ﻣﻦ ﻛﻤﺎﻝ اﻟﺰﻳﻨﺔ ﻭﻃﻮﻟﻬﺎ اﻟﻔﺎﺣﺶ ﺧﻼﻑ اﻟﺴﻨﺔ.( الاختيار 4/167)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند