عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 170283

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو مذکر و مؤنث کے صیغے سے کیوں ذکر فرمایا ہے جیسے والنزعت والنشطت؟

Published on: May 17, 2019

جواب # 170283

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:901-731/sn=9/1440



فرشتے صفتِ ذکورت یاانوثت سے متصف نہیں ہوتے۔ (عقائد الاسلام،حصہ اول ،ص: 87،ط: ادارہ اسلامیات لاہور) قرآن کریم میں ظاہر لفظ کی رعایت میں بسا اوقات مذکر اور بسا اوقات مؤنث استعمال ہوئے ہیں، نیز بعض مقامات (مثلا مذکور فی السوال مقامات )پر”الطوائف“وغیرہ کی تقدیر کے ساتھ مونث استعمال کئے گیے ہیں۔(دیکھیں: تفسیر مدارک وغیرہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات