عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

pakistan

سوال # 170059

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ انسان جب مر جاتا ہے تو عذاب یا ثواب اس کو کہاں ملتا ہے اس دنیوی قبر میں یا کوئی اور جگہ میں مثلا علیین یا سجین میں یا صرف روح کو یا روح جسم کے اندر آجاتی ہے اور اگر روح جسم میں آجائے ؟ سوال و جواب کیلئے تو وہ روح قیامت تک جسم کے اندر رہتی ہے (ثواب یاعذاب کیلئے ) یا الگ الگ رہتی ہے ، برائے مہربانی جواب تفصیل مع الدلائل دیں۔

Published on: Apr 30, 2019

جواب # 170059

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:709-653/sd=8/1440



  اہل السنة والجماعةکا عقیدہ ہے کہ انسان کی وفات سے لے کر قیامت قائم ہونے تک کا زمانہ عالم برزخ ہے اور برزخی زندگی کا انحصار صرف قبر ہی پرنہیں ہے؛ بلکہ موت کے بعد جسم انسانی کے اجزاء جہاں بھی پائے جائیں- خواہ وہ مٹی کا گڑھا ہو یا سمندر کا پانی ہو یا جانوروں کا پیٹ ہو- یہ سب اس کے لئے قبر کے درجہ میں ہیں اور یہی برزخی زندگی کہلاتی ہے، موت کے بعد اسی عالم برزخ میں روحِ انسانی اپنے بدن یا جزوِ بدن کی طرف متوجہ ہوتی ہے؛ تاکہ وہ منکر نکیر کے سوالات کا جواب دے سکے اور پھر اس روح کا جسم کے ساتھ کم از کم اس قدر تعلق ضرور باقی رہتا ہے کہ وہ اس کی بنا پر قبر کی راحت وعذاب کو محسوس کرسکے؛ تاہم یہ ایسی چیز ہے جو انسانی آنکھوں سے نظر نہیں آسکتی اور بندہ اس کی کیفیات جاننے کا مکلف بھی نہیں ہے،اس پر بلا کسی تفصیل کے مخبر صادق کے خبر دینے پر ایمان لانا ضروری ہے۔ واختلف فیہ أنہ بالروح أو بالبدن أو بھما وھو الأصح منھما إلا أنا نومن بصحتہ ولا نشتغل بکیفیتہ۔ (شرح الفقہ الأکبر: ۱۲۴، شرح الصدور للسیوطی ۲۴۷بیروت)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات